ڈیجیٹل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال سے سماجی ہم آہنگی اور تنوع کو فروغ دینا

 ڈیجیٹل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال سے سماجی ہم آہنگی اور تنوع کو فروغ دینا



آج کی تیزی سے جڑتی ہوئی دنیا میں، ڈیجیٹل میڈیا رابطے، تعلیم، اور سماجی تعامل کے لیے ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا، بلاگز، فورمز، اور ڈیجیٹل نیوز آؤٹ لیٹس جیسے پلیٹ فارمز مختلف پس منظر کے لوگوں کو خیالات کا تبادلہ کرنے، آراء کا اظہار کرنے، اور کمیونٹیز بنانے کی اجازت دیتے ہیں۔ تاہم، ان پلیٹ فارمز کے وسیع استعمال سے چیلنجز بھی پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر جب بات سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے اور تنوع کو فروغ دینے کی ہوتی ہے۔ یہ بات بہت ضروری ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال کیا جائے تاکہ یہ پلیٹ فارم معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں بجائے اس کے کہ وہ تقسیم اور غلط فہمی کو فروغ دیں۔

سماجی ہم آہنگی اور تنوع کی سمجھ

Responsible Use of Digital Media to Promote Social Cohesion and Diversity

Responsible Use of Digital Media to Promote Social Cohesion and Diversity


In today’s hyper-connected world, digital media has become a powerful tool for communication, education, and social interaction. Platforms like social media, blogs, forums, and digital news outlets allow individuals from diverse backgrounds to share ideas, express opinions, and build communities. However, the widespread use of these platforms also brings challenges, particularly when it comes to maintaining social cohesion and promoting diversity. The responsible use of digital media is crucial in ensuring that these platforms contribute positively to society rather than fostering division and misunderstanding.


Understanding Social Cohesion and Diversity

اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے

 

اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے


ہم جماعت وہ دوست ہوتے ہیں جن کے ساتھ ہم سکول میں وقت گزارتے ہیں، کھیلتے ہیں، اور تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہمارا رویہ اور سلوک بہت اہم ہوتا ہے کیونکہ یہ نہ صرف ہماری شخصیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ہمیں ایک اچھا انسان بننے میں بھی مدد دیتا ہے۔ ہم جماعتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ہر بچے کے لیے ضروری ہے، اور اس کے لیے کچھ اہم باتیں ہیں جن کا خیال رکھنا چاہیے۔

1. ادب اور احترام:

ہمیں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ ہمیشہ ادب سے پیش آنا چاہیے۔ ان کے ساتھ بات کرتے وقت شائستگی اور نرمی کا مظاہرہ کریں۔ کسی کو برا بھلا نہ کہیں، اور نہ ہی کسی کا مذاق اُڑائیں۔ یاد رکھیں، ہر شخص کی عزت نفس ہوتی ہے، اور ہمیں کسی کی دل آزاری نہیں کرنی چاہیے۔

2. مدد کرنا:

اگر ہمارا کوئی ہم جماعت کسی مشکل میں ہو یا کسی چیز کو سمجھنے میں مشکل محسوس کر رہا ہو، تو ہمیں اُس کی مدد کرنی چاہیے۔ مثلاً، اگر کوئی سوال حل کرنے میں مشکل ہو، تو ہم اسے سمجھا سکتے ہیں۔ اس طرح ہم نہ صرف اپنے دوستوں کی مدد کرتے ہیں بلکہ خود بھی بہتر طریقے سے سیکھتے ہیں۔

3. دوستی اور محبت:

ہمیں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ محبت بھرا رویہ رکھنا چاہیے۔ چھوٹے موٹے جھگڑوں کو درگزر کریں اور دوسروں کو معاف کریں۔ دوسروں کے جذبات کا خیال رکھیں اور ان کے ساتھ دوستی بڑھائیں۔ یہ رویہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور کلاس کا ماحول خوشگوار بناتا ہے۔

4. انصاف اور برابری:

ہمیں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا چاہیے۔ کسی کو اپنے سے کمتر یا برتر نہ سمجھیں۔ سب کے ساتھ انصاف کریں اور کسی کو اس کی شکل، رنگ، یا قابلیت کی بنیاد پر کم نہ سمجھیں۔ اس طرح کا رویہ ہمیں ایک بہتر انسان بننے میں مدد دیتا ہے۔

5. ٹیم ورک اور تعاون:

ہمیں ٹیم ورک میں حصہ لینا چاہیے اور اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ گروپ پروجیکٹس یا کھیلوں میں، ہم سب کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے اور اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ہم سب مل کر کامیاب ہوں۔

نتیجہ:

اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ایک ضروری وصف ہے جو ہمیں نہ صرف سکول میں بلکہ زندگی کے ہر میدان میں کامیاب بنا سکتا ہے۔ ہمیں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دوسروں کے ساتھ کیسا رویہ رکھا جائے، کیونکہ ہمارے عمل اور رویے سے دوسروں کی زندگی پر بھی اثر پڑتا ہے۔ ہمیں دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہیے جیسا ہم اپنے لیے چاہتے ہیں۔


Kids Urdu Story عنوان: بکری اور گلاب کا پھول

 

عنوان: بکری اور گلاب کا پھول


ایک بار کی بات ہے کہ ایک سرسبز وادی میں ایک بکری رہتی تھی۔ وہ بکری بہت خوش اخلاق اور نیک دل تھی۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتی اور سب جانوروں کا خیال رکھتی تھی۔ وادی میں ایک خوبصورت گلاب کا پھول بھی تھا، جو اپنی خوبصورتی پر بہت ناز کرتا تھا۔

گلاب کا پھول ہمیشہ بکری سے فخر کے ساتھ بات کرتا تھا اور کہتا، "دیکھو، میں کتنا خوبصورت ہوں! میری خوشبو دور دور تک پھیلتی ہے، اور سب میری تعریف کرتے ہیں۔ تمہارے پاس تو نہ خوشبو ہے اور نہ ہی خوبصورتی۔"

بکری مسکرا کر کہتی، "گلاب، تم واقعی بہت خوبصورت ہو، لیکن خوبصورتی ہمیشہ دل کی ہوتی ہے، اور میں اپنے دل کو خوبصورت بنانے کی کوشش کرتی ہوں۔"

ایک دن، وادی میں تیز ہوا چلنے لگی اور طوفان آ گیا۔ گلاب کا پھول زور سے ہلنے لگا اور اس کی پتیاں جھڑنے لگیں۔ وہ بہت خوفزدہ ہو گیا اور مدد کے لیے پکارنے لگا۔ بکری نے گلاب کی آواز سنی اور فوراً اس کے پاس پہنچی۔

بکری نے گلاب کو طوفان سے بچانے کے لیے اپنے جسم سے ڈھانپ لیا اور کہا، "فکر نہ کرو، میں تمہاری حفاظت کروں گی۔"

جب طوفان تھم گیا، تو گلاب کا پھول بکری کا شکر گزار ہوا اور کہا، "میں ہمیشہ اپنی خوبصورتی پر فخر کرتا تھا، لیکن آج مجھے سمجھ آیا کہ حقیقی خوبصورتی دل کی ہوتی ہے۔ تمہاری نیکی اور محبت نے مجھے بچایا۔"

بکری نے مسکرا کر کہا، "حقیقی خوبصورتی ہمیشہ دل کی نرمی اور دوسروں کی مدد میں ہوتی ہے۔"

سبق:

اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ظاہری خوبصورتی کی اہمیت کم ہوتی ہے، جبکہ دل کی خوبصورتی اور دوسروں کی مدد کرنے کی صلاحیت ہی اصل خوبصورتی ہے۔ ہمیں ہمیشہ نیکی اور محبت سے پیش آنا چاہیے تاکہ ہم سب کی زندگی میں خوشی بھر سکیں۔

عنوان: ہاتھی اور چیونٹیاں (Elephant and Ants) Kids Urdu story

 

عنوان: ہاتھی اور چیونٹیاں



ایک گھنے جنگل میں ایک بڑا سا ہاتھی رہتا تھا۔ وہ بہت طاقتور تھا اور سب جانوروں سے بہت محبت کرتا تھا۔ لیکن کبھی کبھی وہ اپنی طاقت کے نشے میں چھوٹے جانوروں کو نظرانداز کر دیتا تھا۔ 

ایک دن ہاتھی جنگل میں گھوم رہا تھا کہ اچانک اس کے پاوں کے نیچے چیونٹیوں کا ایک بڑا جتھا آ گیا۔ ہاتھی کو احساس ہوا کہ وہ چیونٹیوں کے گھر کے قریب آ گیا ہے اور اس کے قدم سے کئی چیونٹیاں زخمی ہو گئیں۔

چیونٹیوں نے ہاتھی کو گھیر لیا اور کہا، "تم بہت بڑے ہو، ہم تمہارے مقابلے میں بہت چھوٹے ہیں، لیکن کیا تمہیں معلوم ہے کہ ہماری زندگی بھی اہم ہے؟" ہاتھی نے چیونٹیوں کی بات سن کر شرمندگی محسوس کی اور معافی مانگی۔

ہاتھی نے چیونٹیوں سے کہا، "میں بہت شرمندہ ہوں، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میں اپنی طاقت سے تمہیں نقصان پہنچا رہا ہوں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ میں اپنے قدم احتیاط سے اٹھاؤں گا اور تم سب کا خیال رکھوں گا۔"

چیونٹیاں ہاتھی کی معافی کو قبول کر لیتی ہیں اور کہتی ہیں، "ہم سب کو ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے، چاہے ہم بڑے ہوں یا چھوٹے۔ محبت اور خیال سے ہم سب مل کر خوش رہ سکتے ہیں۔"

ہاتھی نے چیونٹیوں کی بات کو دل سے تسلیم کیا اور اس دن سے وہ جنگل کے ہر جانور کے ساتھ محبت اور احترام سے پیش آتا تھا۔ چھوٹے جانوروں نے بھی ہاتھی کو اپنا دوست بنا لیا اور سب جنگل میں خوشی خوشی رہنے لگے۔

سبق:

اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں دوسروں کے ساتھ محبت اور خیال سے پیش آنا چاہیے، چاہے وہ کتنے ہی چھوٹے کیوں نہ ہوں۔ ہر زندگی کی قدر کرنی چاہیے اور اپنے عمل سے کسی کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔

فتح (Elephant and Ants) Urdu Kids story

 فتح



اعجاز احمد

ایک دن جنگل کا سکون غارت ہو گیا اس جنگل میں رہنے والے ایک ہاتھی نے اس جنگل کے پر سکون ماحول کو درہم برہم کر دیا۔ ہوا یہ کہ اس ہاتھی کے دل میں اپنی طاقت کا غرور بھر گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ وہ جنگل کا سب سے طاقتور جانور ہے باقی جانوروں کو اس سے دب کر رہنا چاہئے یہ سوچتے ہی وہ اچھلنے کودنے لگا اس نے ہری ہری گھاس کو کچل دیا پھولوں کی کیاریوں کو روند ڈالا کئی چھوٹے بڑے درخت اپنی سونڈ میں لپیٹ کر جڑوں سے اکھاڑ پھینک دیئے اور جو بھی جانور نظر آیا اس کا پیچھا کر کے اسے اپنے وزنی پاؤں تلے روند ڈالا اور کسی کو اپنی سونڈ میں لپیٹ کر دور پھینک کر موت کے گھاٹ اتار دیا.  دیکھتے ہی دیکھتے اس نے جنگل میں ہنگامہ مچاد یا بیچارے چھوٹے بڑے جانور اس کے ڈر سے اپنے اپنے بلوں گھروندوں اور کچھاروں سے نکل کر دور دور بھاگنے لگے ۔

 جنگل کے کچھ جانوروں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ کسی کی بات ماننے اور کسی کی نصیحت سننے پر آمادہ نہ ہوا اور پھر جانوروں نے اسے کہنا ہی بند کر دیا اور جنگل کا ہر جانور دل سے اس ہاتھی سے نفرت کرنے لگا لیکن وہ سب مجبور تھے وہ کمزور تھے اور ہاتھی طاقت ور تھا کمزور جانور اس ہاتھی کو ظلم کرنے سے باز نہ رکھ سکے وہ اپنی جان بچانے کو ہی غنیمت سمجھتے۔

جنگل کے  چھوٹے بڑے ، بڑے جانور اس ظالم گندے ہاتھی کو کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑے ہوتے اور کئی دن ایسے بھی آتے جب اس ہاتھی کو ستانے کے لئے کوئی جانور ہاتھ نہ لگتا۔ چونکہ ظلم کرنا اور دوسروں کو ستانا اس کی عادت بن گئی جس دن اسے کوئی جانور نہیں ملتا اس دن اسے بڑی بے چینی محسوس ہوتی وہ گھاس اور درختوں کو توڑ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتا لیکن جو مزہ اسے زندہ جانوروں کو ستانے میں آتا وہ گھاس پھونس کو روندنے میں نہ ملتا۔

ایک ایسے ہی دن جب کوئی جانور اس کے ہاتھ نہ آیا اور وہ بڑا اداس ہو کر جنگل میں پھر رہا تھا اس کی اچانک نظر زمین پر بکھری ہوئی چیونٹیوں پر پڑی ۔ اگر چہ اس جنگل کی چیونٹیوں تک بھی اس ظالم اور گندے ہاتھی کی ظلم کی داستانیں پہنچ چکی تھیں لیکن چیونٹیوں کا خیال تھا کہ کہاں پہاڑ برابر اور کہاں روئی برابر چیونٹیاں بھلا ہا تھی اور چیونٹی کا کیا مقابلہ چیونٹی تو اتنی حقیر اور بے مایہ جانور ہے کہ ہاتھی انہیں تنگ کرنے یا مارنے کا سوچے گا بھی نہیں۔ لیکن ان معصوم چیونٹیوں کو اس بات کی خبر نہیں تھی کہ جب کوئی جاندار ظلم کرنے کا عادی ہو جاتا ہے تو وہ چھوٹے بڑے کی تمیز  کئے بغیر ظلم کرتا  ہے وہ چیونٹیاں ہاتھی کے ظلم سے بے پروا ہو کر اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھیں کہ ظالم ہاتھی - ان پر حملہ آور ہو گیا۔ وہ ان کے بل اور گھروندے تباہ کرنے لگا اس  نے زور زور سے اپنے بھاری پاؤں زمین پر مارے اور اس طرح ہزاروں  چیونٹیوں کے بل تباہ ہو گئے اور سینکڑوں چیونٹیاں اور چیونٹے مر گئے اور  ہزاروں چیونٹیاں اس ناگہانی آفت سے بچنے کے لئے ادھر ادھر بھاگنے 

لگیں۔ اب ہاتھی کا معمول بن گیا کہ جب اسے کوئی چھوٹا یا بڑا جانور نہ ملتا تو وہ اپنا غصہ اتارنے کے لئے اس طرف چلا جاتا جہاں چیونٹیوں نے اپنے گھر بنارکھے تھے۔

اس ظالم ہاتھی نے کئی مرتبہ چیونٹیوں کے گھر تباہ کئے اور ہزاروں  چیونٹیوں اور چیونٹوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ ایک دن ایک نوجوان چیونٹا غصے سے بھڑک اٹھا۔

ہم یہ ظلم کب تک برداشت کریں گے؟" اس نے اپنے بزرگوں اور نوجوان ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا۔  لیکن ہم کر ہی کیا سکتے ہیں ؟ ایک بزرگ چیونٹے نے الٹا سوال کیا۔

ہم مقابلہ کریں گے اگرچہ ہم ہاتھی کے مقابلے میں نہایت کمزور ہیں لیکن ہم پھر بھی مقابلہ کریں گے۔ ہم بزدلی کی موت کی بجائے عزت کی موت قبول کریں گے " جب ہم نے کبھی نہ کبھی مرنا ہے تو کیوں نہ مقابلہ کرتے ہوئے مریں ہم بہت سے چھوٹے چھوٹے چیونٹے مل کر ہاتھی کا مقابلہ کریں گے شاید ہم اسے شکست دے ہی ڈالیں نوجوان چیونٹے نے ایک عزم سے کہا نوجوان چیونٹے کی یہ تقریر دیگر بہت سے چیونٹوں کو پسند آئی چنانچہ ہر طرف سے ”ہم مقابلہ کریں گے ہم مقابلہ کریں گے “ کی آوازیں آنے لگیں۔ چند دنوں بعد ہاتھی چیونٹیوں کی بستی پر حملہ آور ہوا تو وہ یہ دیکھا کر حیران رہ گیا کہ چیونٹیاں اور چیونٹے اس سے ڈر کر بھاگنے کی بجائے مقابلہ پر اتر آئیں ہیں ہاتھی نے سوچا چلو اچھا شکار ملا ہے اس نے اپنا بھاری پاؤں مار مار کر سینکڑوں ہزاروں چیونٹوں کو جان سے مار دیا البتہ چند چیونٹے ہاتھی کے پاؤں پر چڑھ کر اس کے جسم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے انہوں نے اپنے ڈنک ہاتھی کے جسم میں گاڑ دیئے لیکن ہاتھی کی موٹی جلد پر ان کے ڈنک کا کوئی اثر نہ ہوا چیونٹے کافی عرصہ ہاتھی کے جسم سے چمٹے رہے لیکن آخر کار تھک ہار کر اس کے جسم سے اتر کر واپس اپنی بستی میں پہنچ گئے۔ وہ غیور چیونٹا جس نے ہاتھی کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا جنگ کے دوران سب سے آگے تھا اور وہی ہاتھی کے بھاری پاؤں کا سب سے پہلے شکار ہوا۔ چیونٹیوں اور ہاتھی کی پہلی جنگ میں بظاہر کامیابی ہاتھی ہی کے حصے میں آئی اس جنگ کے بعد چیونٹیوں کا پور اقبیلہ مل کر بیٹھا اور مزید صلاح و مشورے کرنے لگا۔ ہاتھی سے جنگ فضول ہے وہ ہم سب سے طاقتور ہے اس سے جنگ کا مطلب جانوں اور گھروں کی تباہی ہے " ایک بزرگ چیونٹے نے مشورہ دیا۔

ہم جنگ جاری رکھیں گے ہم ایک نہ ایک دن اسے شکست دے کر رہیں گے " ایک نوجوان چیونٹے نے نعرہ مستانہ لگایا۔

بدله بدله بدلہ " بہت سے چیونٹے پکار اٹھے۔ اور بالا آخر چیونٹیوں کی پنچایت نے فیصلہ کیا کہ آخری فتح تک

جنگ جاری رہے گی جب دوسری جنگ ہوئی تو چیونٹے اپنی پلاننگ کے مطابق ہاتھی کے چاروں پاؤں کے ذریعے ہاتھی کے جسم پر پھیل گئے اور اس کے جسم کا کمزور اور نرم حصہ تلاش کرنے لگے۔ اس دن بھی بہت سے چیونٹے ہلاک ہو گئے لیکن اس دن چیونٹے ہاتھی کے جسم کا کمزور اور نرم حصہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ہوا یہ کہ چند چیونٹے ہاتھی کی سونڈ میں گھسنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ہاتھی کی سونڈ اندر سے نرم ہے انہوں نے سوچا کہ اگر سونڈ کے اندر ڈنک مارے جائیں تو ہاتھی کو شاید کوئی نقصان پہنچ سکے لیکن مصیبت یہ تھی کہ ہاتھی کی سونڈ کے اندر اتنی رطوبت تھی کہ سونڈ کے اندر پہنچنے والے بہت سے چیونٹے اس رطوبت میں پھنس کر مر گئے اور چند ایک چیونٹے ہی زندہ بیچ کر واپس اپنے قبیلے میں پہنچ سکے۔ اس دن کے بعد  ہاتھی اور چیونٹوں کے درمیان کئی جنگیں ہوئیں ہاتھی آتا اور ان کے گھر تباہ کرتا اور سینکڑوں ہزاروں چیونٹیوں کو ہلاک کر دیتا چیونٹے اس کے جسم پر پہنچ کر اور اس کی سونڈ میں گھس کر اسے ڈنک مارتے لیکن ہاتھی ہر بار نقصان سے بچ جاتا۔ بہت سے چیونٹے بد دل بھی ہوتے لیکن اکثر چیونٹے بہادری سے اپنے موقف پر ڈٹے رہتے

اور بالآخر ایک دن ان کی قربانی رنگ لائی ۔

چند چیونٹے ہاتھی کی لمبی سونڈ کی مسافت طے کر کے ہاتھی کے دماغ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہاتھی کے سر کے اندرونی حصے میں پہنچ کر ڈنک مارنے شروع کر دیئے ۔ ہاتھی کے دماغ کا اندورونی حصہ انتہائی نرم و نازک اور حساس تھا چیونٹوں کے ڈنک سے اسے بے پناہ اذیت محسوس ہوئی اور وہ درد سے چیخنے چلانے لگا چیونٹوں نے جب ہاتھی کو اذیت میں مبتلا ہو کر چیختے دیکھا تو انہیں احساس ہوا کہ ان کا منصوبہ کامیاب ہو رہا ہے اور ان کا وار کاری ثابت ہونے لگا ہے انہوں نے ڈنک مارنے کی رفتار تیز کر دی۔

ہاتھی چیونٹوں کے پے درپے حملوں کی تاب نہ لاسکا اور زمین پر گر کر لوٹنے پوٹنے لگا اور کچھ دیر بعد درد کی تاب نہ لاکر مر گیا۔ ہاتھی کے مرتے ہی سینکڑوں ہزاروں چیونٹے چیونٹیاں ہاتھی کے مردہ جسم پر سوار ہو گئے وہ اپنی فتح پر بہت خوش تھے۔ وہ ایمان پر بہت خوش ہے۔ جنگل کے سارے جانوروں کو کو پتہ چل گیا کہ پہاڑ جیسے جسم والے ظالم اور گندے ہاتھی کو ننھی منی چیونٹیوں اور چیونٹوں نے مل کر شکست دے دی ہے اور اسے موت کے گھاٹ اتار کر سارے جنگل کو اس کے ظلم سے نجات دلادی ہے سب جانوروں نے چیونٹیوں اور چیونٹوں کو مبارک باد دی اور انہوں نے تسلیم کیا کہ مل جل کر کمزور سے کمزور جانور بھی بڑے بڑے اور طاقتور جانوروں کا مقابلہ کر سکتے  ہیں۔



انوکھی سالگرہ

  انوکھی سالگرہ

محمد افتخار كھوكر

کامران کی سالگرہ کی تیاریاں زور شور سے جاری تھیں سالگرہ میں ابھی ایک ہفتہ باقی تھا لیکن کامران ابھی سے اپنے دوستوں میں دعوت نامے تقسیم کر رہا تھا اور ہر ایک سے اس تقریب میں لازما شریک ہونے کے وعدے لے رہا تھا۔

 سالگرہ سے ایک دن پہلے کامران اپنے بہت ہی گہرے دوست را شد کو اس تقریب کے پیشگی انتظامات کے لئے بلانے اس کے گھر گیا تو راشد کی امی نے بتایا کہ وہ تو امدادی کیمپ میں گیا ہوا ہے۔

 کون سا امدادی کیمپ تم کامران نے بے چینی سے پوچھا۔

کامران بیٹے ! ہمارے ملک کے شمالی علاقے میں جو تباہ کن زلزلہ جو آیا ہے اس سے ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ زلزلے نے ان کا سب کچھ تباہ و برباد کر دیا ہے اور اب وہ کھلے آسمان تلے بے یارومدد گار پڑے ہیں ان بے گھر لوگوں کی مدد کے لئے شہر میں قائم ہونے والے امدادی کیمپ میں لوگوں سے نقد رقوم کپڑے اور کھانے پینے کا سامان جمع کر کے متاثرین زلزلہ کو بھیجوایا جا رہا ہے۔

راشد تمہیں وہیں امدادی کیمپ میں مل جائے گا۔ راشد کی امی نے تفصیل سے بتایا۔ کامران اور راشد کی دوستی بڑی گہری تھی اس لئے وہ گھر جانے کی  بجائے راشد کو ملنے امدادی کیمپ کی طرف چل دیا۔ کیمپ میں پہنچ کر کامران کو پتہ چلا کہ راشد متاثرین زلزلہ کیلئے سامان ٹرک میں لدوانے گیا ہوا ہے اور تھوڑی دیر میں آنے والا ہے۔ کامران نے سوچا کہ تھوڑی دیر انتظار کر لینے میں کیا ہرج ہے انتظار کے دوران اس کی نظر امدادی کیمپ پر لگے ہوئے بڑے سے  بینر پر پڑی جس پر لکھا تھا " مسلمان وہ ہے جومصیبت کے وقت اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے کام آئے (حدیث نبوی ) " بینر پر لکھی ہوئی عبارت ہوا میں لہرا رہی تھی اور کامران کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ ہوا کی لہر اس کے سوئے ہوئے دل کو دکھی لوگوں کی مدد کرنے کے لئے بیدار کر رہی ہے۔ کامران نجانے کب تک بینر کی عبارت میں کھویا رہتا کہ اس کے کانوں سے ایک مانوس ہی آواز ٹکرائی۔

آہا! کامران بھیا آپ یہاں کیسے ؟ "

کامران نے چونک کر دیکھا تو سامنے راشد کھڑا تھا۔

وہ وہ میں آپ کو " کامران کچھ کہتے ہوئے رک سا گیا۔

بھئی کیا بات ہے؟ یہ آپ امجھے ہوئے انداز میں کیا کہہ رہے ہیں " راشد نے حیران ہو کر پوچھا۔ کامران نے اپنے حواس درست کرتے ہوئے اور خیالوں کی دنیا سے واپس آتے ہوئے جواب دیا- دراصل میں آپ کو لینے آیا تھا۔ کہاں جانے کے ارادے ہیں ؟ " راشد نے پوچھا

آپ کو پتہ ہی ہے کہ کل میری چودھویں سالگرہ ہے۔ اس کے انتظامات کی مجھے ابھی فکر لگی ہوئی ہے۔ آپ کو لینے آیا ہوں ، تاکہ ایک دن پہلے ہی سارے انتظامات مکمل کر لئے جائیں " ۔ کامران نے جواب دیا۔

مگر میں تو اس وقت بہت مصروف ہوں ، ہمارے ملک کا ایک حصہ زلزلے کی تباہ کاریوں کا شکار ہے ، ایسے میں سالگرہ اور خوشی و مسرت کی تقریبات منانا کچھ اچھا نہیں لگتا " ۔ راشد نے سنجیدگی سے  کہا۔

امدادی کیمپ میں آکر احساس تو مجھے بھی ہو رہا ہے مگر کیا کیا جائے ، اب تو سارے ہی دوستوں کو اطلاع دی جا چکی ہے، اور انتظامات بھی مکمل ہونے والے ہیں ، ایسے میں سالگرہ کی تقریب ملتوی کی جاسکتی ہے ؟ " کامران نے تشویش بھرے انداز میں کہا۔

ایک تجویز ہے ، جس پر عمل کر کے سالگرہ کی تقریب ملتوی کئے بغیر کام چل سکتا ہے " راشد نے کہا۔ وہ کیا ؟ " کامران نے بے تابی سے پوچھا۔

راشد نے اس کے کان میں کچھ کہا اور کامران کا چہرہ کھل اٹھا۔ سالگرہ کی تقریب کا وقت جیسے جیسے قریب آرہا تھا، مہمانوں کی کو تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ تمام مہمان لان میں بچھی ہوئی کرسیوں بیٹھے تقریب کے انتظار میں خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ اچانک  کامران کی آواز ایک جانب سے بلند ہوئی۔ مہمانان گرامی! سالگرہ کی تقریب کا وقت ہو گیا ہے۔لوگ ہال میں تشریف لے چلیں "۔ تمام مہمان تیزی سے ہال کی جانب لپکے۔ مگر یہ کیا؟

چہروں پر سوالیہ نشان تھا۔ ہال کے درمیان رکھی ہوئی بڑی سی میز سالگرہ کے کیک اور مہمانوں کے لائے ہوئے تحفوں کی بجائے بالکل خالی پڑی تھی۔ مہمانوں میں نہ ختم ہونے والی کھسر پھسر اور چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ  کامران راشد کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے مسکراتا ہوا ہال میں داخل ہوا۔ تمام مہمانوں کو پریشانی کے ان لمحات میں کامران کی مسکراہٹ  بہت بری لگی۔

یہ کیا مذاق ہے ؟ " طاہر نے اونچی آواز میں کہا۔ یہ کیا چکر چلا یا گیا ہے ؟؟ حامد نے گلا پھاڑ کر کہا۔  ہمیں سالگرہ کے نام پر بیوقوف بنایا گیا ہے " طارق نے جھنجھلا کر کہا۔ بھئی! ناراض اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کی ناراضگی ابھی دور کئے دیتا ہوں " کامران نے زیر لب مسکراتے ہوئے کہا۔

وہ کیسے ؟ " کئی آواز میں ایک ساتھ ابھریں۔ میرے پیارے دوستو! " کامران نے دھیمے انداز میں کہنا  شروع کیا۔

آپ کو علم ہے کہ ہمارے پیارے ملک کے ایک حصے میں زلزلے نے تباہی پھیلا دی ہے ۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں ، سر  چھپانے اور کھانے پینے کے لئے ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا ایسے میں سالگرہ اور خوشی کی دوسری تقریبات منانا اچھا نہیں لگتا۔ میں نے سوچاتھا کہ سالگرہ کی تقریب ملتوی کر دوں ، مگر ایک دن کے مختصر وقت ممکن نہیں تھا کہ تمام دوستوں کو اس تقریب کے التواء کی اطلاع کر سکوں ۔ اس لئے راشد کے مشورے پر میں نے فیصلہ کیا کہ سالگرہ کے پر تمام دوست جمع تو ضرور ہوں، مگر سالگرہ کے انتظامات پر اٹھنے

موقع والے تمام اخراجات کی رقم اور آپ دوستوں کے لائے ہوئے تحفوں  کومتاثرین زلزلہ کے امدادی فنڈ میں جمع کرا دیا جائے " ۔

کامران کا یہ اعلان سنتے ہی مضطرب اور بے چین چہرے خوشی سے  دمکنے لگے ، کامران کا یہ غیر متوقع مگر خوش کن فیصلہ سب کو بیحد پسند آیا۔

فرقان نے سارے دوستوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا ” ہم بھی آج سے اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کے لئے امدادی کیمپ میں کام کریں گے "۔

راشد اور کامران اپنے دوستوں کا یہ فیصلہ سن کر دل ہی دل میں مسکرانے لگے۔


Atom Bomb Story in Urdu

 






ستارے

 ستارے 

جونہی رات آئی وہ چمکے ستارے                         وہ ہیرے وہ موتی وہ ہیں ماہ پارے

 خبر آمد صبح کی بھی ہیں دیتے                                    سناتے ہیں راحت کا پیغام تارے

جوره رو کہیں راستہ اپنا کھو دے                         سیہ رات میں اس کے ہیں یہ سہارے 

سمندر میں جیسے ہیں کچھ کشتیاں سی                جو کچھ ہیں بھنور میں تو کچھ ہیں کنارے 

مجھے بھی وہاں اے ستارو ! بلا لو                 جہاں پر ہیں فطرت کے رنگیں نظارے

(مختار النسا سیالکوٹ) 1951

سلیم کی کہانی


سلیم کی کہانی




ایک چھوٹے سے گاؤں میں، جو ہرے بھرے پہاڑوں اور گھنے جنگلات کے درمیان واقع تھا، ایک ننھا لڑکا سلیم رہتا تھا۔ سلیم اپنی مہربانی اور تجسس کی وجہ سے پورے گاؤں میں مشہور تھا۔ وہ اپنی دادی کے ساتھ ایک سادہ سے گھر میں رہتا تھا جو مٹی کی اینٹوں اور گھاس پھوس کی چھت سے بنا ہوا تھا۔ اس کے والدین بچپن میں ہی انتقال کر گئے تھے، اس لیے دادی نے اسے پیار اور توجہ سے پالا تھا۔


سلیم کا گاؤں ایک ایسا مقام تھا جہاں سب ایک دوسرے کو جانتے تھے، اور زندگی سادہ مگر اطمینان بخش تھی۔ ہر روز اسکول کے بعد، سلیم گلیوں میں دوڑتا پھرتا، بزرگوں کو سلام کرتا اور اپنے دوستوں کے ساتھ کھیتوں میں کھیلتا۔ اسے قریب کے جنگل میں گھومنا بہت پسند تھا، جہاں اونچے درخت، چہچہاتی چڑیاں، اور ایک چھوٹی سی ندی بہتی تھی۔


ایک دن، جب سلیم جنگل کے کنارے کھیل رہا تھا، اس کی نظر ایک بڑے درخت کے نیچے کچھ چمکدار چیز پر پڑی۔ تجسس میں، وہ قریب گیا اور دیکھا کہ زمین میں آدھا دبا ہوا ایک پرانا، زنگ آلود چابی ہے۔ اس نے اسے اٹھایا اور غور سے دیکھا، سوچتے ہوئے کہ یہ کس چیز کو کھول سکتا ہے۔ سلیم کی تخیل نے مختلف خیالات کو جنم دیا، جیسے کہ خفیہ دروازے، چھپے ہوئے خزانے، اور پر اسرار مہمات۔


وہ دوڑتا ہوا اپنی دادی کے پاس گیا اور انہیں چابی دکھائی۔ "دادی، دیکھیں میں نے کیا پایا! کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ کسی جادوئی چیز کو کھول سکتی ہے؟" اس نے جوش سے پوچھا۔ دادی نے مسکراتے ہوئے کہا، "شاید یہ کسی بھولی ہوئی کہانی کی چابی ہے، یا شاید یہ کسی ایسے راز کو کھولنے کے انتظار میں ہے جو صرف تم ہی حل کر سکتے ہو۔"


اس رات، جب سلیم بستر پر لیٹا، وہ چابی کے بارے میں سوچتا رہا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اگلے دن وہ جنگل میں اور گہرائی میں جائے گا تاکہ یہ دیکھ سکے کہ یہ چابی کس چیز کی ہے۔


اگلی صبح، اپنے کام مکمل کرنے اور ناشتہ کرنے کے بعد، سلیم چابی اپنی جیب میں ڈال کر جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ وہ ان درختوں اور ندی کے پاس سے گزرتا ہوا، اس جگہ پہنچا جہاں وہ پہلے کبھی نہیں گیا تھا۔ جوں جوں وہ چلتا رہا، جنگل گھنا اور تاریک ہوتا گیا، لیکن اس کا عزم اسے آگے بڑھاتا رہا۔


کئی گھنٹوں کے بعد، سلیم ایک پرانی، ویران گھر کے پاس پہنچا جو بیلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور لکڑی کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا۔ سلیم کا دل تیز دھڑکنے لگا جب وہ گھر کے قریب پہنچا، چابی کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے۔


اس نے دروازے کو کھولنے کی کوشش کی، جو چرچراتے ہوئے کھل گیا۔ وہ اندر داخل ہوا۔ گھر میں ہر طرف دھول تھی اور مکڑ جالے بنے ہوئے تھے، لیکن اس میں کچھ خاص دلکشی تھی۔ کمرے کے بیچ میں، سلیم نے ایک بڑا، پرانا صندوق دیکھا جس پر زنگ آلود تالا لگا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں چمک اٹھیں، یہ سوچتے ہوئے کہ شاید یہ وہی چابی ہے جو اس صندوق کا تالا کھول سکتی ہے۔


لرزتے ہاتھوں سے سلیم نے چابی کو تالے میں ڈالا۔ یہ بالکل فٹ ہوگئی۔ اس نے چابی کو گھمایا اور تالا کھل گیا۔ سلیم نے صندوق کا بھاری ڈھکن اٹھایا اور اندر جو کچھ دیکھا، اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔


صندوق میں پرانی کتابیں، دستاویزات، اور مختلف عجیب و غریب چیزیں بھری ہوئی تھیں۔ وہاں دور دراز کے علاقوں کے نقشے، ایک کمپاس، اور ایک چھوٹا سا دوربین بھی تھا۔ لیکن جو چیز سلیم کی نظر کو سب سے زیادہ کھینچتی تھی، وہ ایک چھوٹا سا خوبصورت باکس تھا جو کتابوں کے اوپر رکھا ہوا تھا۔


اس نے احتیاط سے باکس کو اٹھایا اور کھولا۔ اس کے اندر ایک خوبصورت، سنہری تعویذ تھا جو ایک ستارے کی شکل کا تھا۔ تعویذ کے ساتھ ایک نوٹ بھی تھا، جو خوبصورت لکھائی میں لکھا ہوا تھا۔ نوٹ پر لکھا تھا: "جو بھی اسے پائے، اس کو ستاروں کی دانشمندی اور اپنے خوابوں کی پیروی کرنے کی جرات نصیب ہو۔"


سلیم نے تعویذ کو اپنے سینے سے لگا لیا، ایک گرم احساس اس کے دل میں پھیل گیا۔ وہ جان گیا کہ یہ خزانہ سونے یا جواہرات سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ یہ علم، مہم جوئی، اور بے انتہا امکانات کی علامت تھی۔


اس نے احتیاط سے تعویذ کو اپنی گردن میں پہن لیا اور فیصلہ کیا کہ صندوق کی باقی چیزیں وہ کسی اور دن دیکھے گا۔ جب وہ پرانے گھر سے باہر نکلا اور گاؤں کی طرف واپس چلا، تو اس کے دل میں ایک نئی امنگ اور جوش پیدا ہو چکا تھا۔


اس دن کے بعد، سلیم گاؤں میں "سنہری ستارے والا لڑکا" کہلانے لگا۔ اس نے اپنے دن کتابوں سے سیکھنے، نئے مقامات کی تلاش کرنے، اور اپنی کہانیاں دوسروں کے ساتھ بانٹنے میں گزارنے شروع کر دیے۔ اس کی گردن میں لٹکنے والا تعویذ اسے روزانہ اس دانشمندی کی یاد دلاتا جو اس نے دریافت کی تھی اور اس جرات کی جو اس نے اپنی مہم کے دوران دکھائی تھی۔


یوں سلیم کی زندگی خوشیوں، علم، اور دریافت کی مہمات سے بھر گئی، اور یہ سب اس لیے ہوا کہ اس نے اپنے دل کی پیروی کی اور پرانی چابی کے راز کو کھولا۔


Curiosity and Courage can lead to great discoveries and personal growth

Curiosity and Courage can lead to great discoveries and personal growth

 Once upon a time, in a small village nestled between rolling hills and dense forests, there lived a little boy named Saleem. Saleem was known throughout the village for his kind heart and inquisitive nature. He lived with his grandmother in a modest house made of mud bricks and thatched roofs. His parents had passed away when he was very young, so his grandmother raised him with love and care.


Saleem’s village was a place where everyone knew each other, and life was simple yet fulfilling. Every day after school, Saleem would run through the narrow lanes, greeting the elders and playing with his friends in the fields. He loved to explore the nearby forest, which was full of tall trees, chirping birds, and a little stream that flowed gently through it.


One day, as Saleem was playing near the edge of the forest, he noticed something shiny under a large tree. Curious, he walked closer and found an old, rusty key half-buried in the ground. He picked it up and examined it, wondering what it could unlock. Saleem’s imagination began to run wild as he thought about secret doors, hidden treasures, and mysterious adventures.


He ran back to his grandmother and showed her the key. “Dadi, look what I found! Do you think it could open something magical?” he asked excitedly. His grandmother smiled warmly and said, “Perhaps it’s the key to a forgotten story, or maybe it’s waiting to unlock a mystery that only you can solve.”


That night, as Saleem lay in bed, he couldn’t stop thinking about the key. He decided that the next day, he would venture deeper into the forest to see if he could find what the key belonged to.


The following morning, after finishing his chores and having breakfast, Saleem set off into the forest with the key in his pocket. He walked past the familiar trees and stream, deeper than he had ever gone before. As he walked, he noticed how the forest grew denser and darker, but his determination kept him going.


After what seemed like hours, Saleem stumbled upon an old, abandoned house covered in ivy. The windows were broken, and the wooden door hung slightly ajar. Saleem’s heart raced as he approached the house, clutching the key tightly in his hand.


He pushed the door open with a creak and stepped inside. The house was dusty and filled with cobwebs, but there was something strangely inviting about it. In the center of the room, Saleem saw a large, old trunk with a rusty lock. His eyes widened as he realized that the key he had found might belong to this very trunk.


With trembling hands, Saleem inserted the key into the lock. It fit perfectly. He turned the key, and with a click, the lock opened. He lifted the heavy lid of the trunk and gasped in amazement at what he saw inside.


The trunk was filled with old books, parchments, and a variety of curious objects. There were maps of distant lands, a compass, and even a small telescope. But what caught Saleem’s eye the most was a small, ornate box resting on top of the books.


He carefully picked up the box and opened it. Inside was a beautiful, golden amulet shaped like a star. Attached to the amulet was a note, written in elegant script. The note read: “To the one who finds this, may you be blessed with the wisdom of the stars and the courage to follow your dreams.”


Saleem felt a warmth spread through his chest as he held the amulet. He knew that this was a treasure far greater than any gold or jewels. It was a symbol of knowledge, adventure, and the endless possibilities that lay ahead.


He carefully placed the amulet around his neck and decided to leave the rest of the trunk’s contents for another day. As he left the old house and made his way back to the village, he felt a newfound sense of purpose and excitement.


From that day on, Saleem became known in the village as the boy with the golden star. He spent his days learning from the books he found in the trunk, exploring new places, and sharing his stories with everyone he met. The amulet around his neck reminded him daily of the wisdom he had discovered and the courage it took to embark on his adventure.


And so, Saleem’s life was filled with joy, knowledge, and the thrill of discovery, all because he had followed his heart and unlocked the mystery of the old key.

اخلاقیات کی اہمیت اور اس کا ہمارے معاشرے پر اثر

اخلاقیات کی اہمیت اور اس کا ہمارے معاشرے پر اثر

اخلاقیات ایک وسیع اور جامع موضوع ہے جس کا دائرہ کار ہر فرد کی زندگی کے ہر پہلو کو شامل کرتا ہے۔ یہ انسان کے ذاتی، سماجی، اور پیشہ ورانہ تعلقات کے درمیان ایک بنیادی عنصر ہے۔ اخلاقیات کی بنیادی حیثیت انسان کی شخصیت، اس کے اعمال، اور اس کی معاشرتی زندگی پر ہوتی ہے۔ ان کی بنیاد پر ہی انسان اچھے اور برے کی تمیز کرتا ہے اور اپنے اعمال کو بہتر طریقے سے انجام دیتا ہے۔


اخلاقیات کی تعریف:

اخلاقیات وہ اصول اور ضوابط ہیں جو انسانی معاشرے میں سماجی تعلقات کو بہتر بنانے اور انسانی زندگی کو منظم کرنے کے لئے وضع کیے گئے ہیں۔ ان اصولوں کی بنیاد پر ہی ہم ایک دوسرے کے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں، دوسروں کے حقوق کا احترام کرتے ہیں اور اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ اخلاقیات کا دائرہ کار وسیع ہوتا ہے جس میں ذاتی، خاندانی، سماجی، اور پیشہ ورانہ زندگی کے تمام پہلو شامل ہوتے ہیں۔


 اخلاقیات کی اقسام:

اخلاقیات کو عمومی طور پر دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: ذاتی اخلاقیات اور سماجی اخلاقیات۔

 ذاتی اخلاقیات:

ذاتی اخلاقیات کا تعلق فرد کی ذاتی زندگی اور اس کے اعمال سے ہوتا ہے۔ اس میں سچائی، ایمانداری، انصاف، تحمل، صبر، اور خود احتسابی شامل ہیں۔ ایک شخص کے اخلاقی اصول اس کے کردار کی تشکیل کرتے ہیں اور اس کی زندگی کو منظم کرتے ہیں۔ ذاتی اخلاقیات انسان کو بہتر شخصیت بننے میں مدد دیتی ہیں اور اس کی اندرونی سکون اور روحانی ترقی کے لئے بھی اہم ہوتی ہیں۔


 سماجی اخلاقیات:

سماجی اخلاقیات کا تعلق فرد کے معاشرتی تعلقات اور اس کے دوسرے لوگوں کے ساتھ برتاؤ سے ہوتا ہے۔ اس میں دوسروں کے حقوق کا احترام، انصاف، بھائی چارہ، ہمدردی، اور دوسروں کے لئے خیر خواہی شامل ہیں۔ ایک معاشرہ اس وقت ہی ترقی کر سکتا ہے جب اس کے افراد سماجی اخلاقیات کے اصولوں پر عمل کریں اور دوسروں کے ساتھ بہتر سلوک کریں۔


 اسلام اور اخلاقیات:

اسلام میں اخلاقیات کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں بہترین اخلاق کا نمونہ پیش کیا اور مسلمانوں کو اخلاقی اصولوں کی پیروی کرنے کی تاکید کی۔ قرآن مجید اور احادیث میں اخلاقیات کے بارے میں کئی ہدایات ملتی ہیں جن میں سچائی، ایمانداری، عدل، انصاف، صبر، اور تحمل کو خاص طور پر اہمیت دی گئی ہے۔

اسلامی اخلاقیات کا بنیادی مقصد انسان کو ایک بہتر فرد اور معاشرے کو ایک بہتر جگہ بنانا ہے۔ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف ذاتی طور پر اخلاقی اصولوں کی پیروی کرے بلکہ دوسروں کو بھی ان کی پیروی کی تلقین کرے۔ اخلاقیات کا درس دینا اور اس پر عمل کرنا مسلمانوں کے لئے لازمی ہے تاکہ وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔


اخلاقیات کا معاشرے پر اثر:

اخلاقیات کا معاشرے پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں اخلاقی اصولوں کی پاسداری کی جاتی ہے، وہ ہمیشہ ترقی کرتا ہے اور وہاں امن و امان کی فضا قائم رہتی ہے۔ اخلاقیات کی پیروی کرنے والے افراد نہ صرف اپنے لئے بلکہ دوسروں کے لئے بھی خوشی اور سکون کا باعث بنتے ہیں۔ ان کے اعمال اور برتاؤ دوسروں کے لئے مثال بنتے ہیں اور ان کے مثبت رویے معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔


موجودہ دور میں اخلاقیات کی اہمیت:

موجودہ دور میں جہاں مادیت پرستی اور خود غرضی عام ہو چکی ہے، وہاں اخلاقیات کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ آج کے معاشرتی مسائل جیسے کہ کرپشن، بدعنوانی، جھوٹ، اور فریب کاری کی وجہ سے معاشرہ کئی مشکلات کا شکار ہے۔ ان مسائل کا حل صرف اس وقت ممکن ہے جب ہم اپنی زندگیوں میں اخلاقیات کو دوبارہ جگہ دیں اور ان اصولوں پر عمل کریں۔


 اخلاقیات کو فروغ دینے کے طریقے:

اخلاقیات کو فروغ دینے کے لئے چند اہم اقدامات کیے جا سکتے ہیں:


1. تعلیم و تربیت: بچوں کی ابتدائی تعلیم و تربیت میں اخلاقیات کی اہمیت کو شامل کرنا بہت ضروری ہے۔ اسکولوں اور گھروں میں بچوں کو اخلاقی اصولوں کی تعلیم دی جانی چاہیے تاکہ وہ بڑے ہو کر ایک اچھے انسان بن سکیں۔


2. عملی مثال: بڑوں کو چاہیے کہ وہ خود اخلاقی اصولوں پر عمل کریں تاکہ بچے اور جوان ان کی پیروی کریں۔ عملی مثال سے ہی بہتر تربیت ہو سکتی ہے۔


3. مذہبی تعلیمات کا فروغ: اسلام میں اخلاقیات کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ دینی تعلیمات کو فروغ دے کر ہم معاشرے میں اخلاقیات کو بہتر طور پر فروغ دے سکتے ہیں۔


4.سماجی شعور: معاشرتی مسائل پر بات چیت اور آگاہی مہموں کے ذریعے اخلاقیات کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، معاشرتی اداروں کو بھی اخلاقیات کی ترویج کے لئے کام کرنا چاہیے۔


 نتیجہ:

اخلاقیات کسی بھی معاشرے کی تعمیر اور ترقی کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی پیروی سے نہ صرف فرد کی زندگی بہتر ہوتی ہے بلکہ پورا معاشرہ بھی خوشحال اور پر امن ہوتا ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں اخلاقیات کو دوبارہ جگہ دینی چاہیے اور ان اصولوں پر عمل کرنا چاہیے تاکہ ہم ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکیں اور دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔


اخلاقیات

 اخلاقیات 


اخلاقیات کسی بھی معاشرے کی بنیاد اور اس کی تعمیر کا اہم حصہ ہوتی ہیں۔ یہ وہ اصول اور اقدار ہیں جو ہمیں اچھے اور بُرے کی پہچان دیتے ہیں اور ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ کس طرح دوسروں کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنا ہے۔ اسلام میں اخلاقیات کو ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے، اور نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی زندگی میں بہترین اخلاق کا نمونہ پیش کیا۔


اخلاقیات کا مطلب صرف سچ بولنا یا ایمانداری سے کام لینا ہی نہیں ہے، بلکہ یہ دوسروں کے حقوق کی پاسداری، احترام، انصاف، اور برداشت کا مظاہرہ کرنے میں بھی شامل ہیں۔ ہمیں اپنی زندگی میں اخلاقی اصولوں کو اپنانا چاہیے تاکہ ہم نہ صرف ایک بہتر فرد بن سکیں بلکہ معاشرے میں بھی مثبت تبدیلی لا سکیں۔


اخلاقی اصولوں کی پیروی کرنے سے نہ صرف ہمارے ذاتی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں بلکہ یہ ہماری روحانی اور دنیاوی زندگی میں بھی برکت اور سکون کا باعث بنتے ہیں۔ اخلاقیات کا درس دینا اور اس پر عمل پیرا ہونا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے تاکہ ہم ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکیں۔


Quotes on social life, working life, humanity, and charity

 Social Life

  1. "Friendship is born at that moment when one person says to another, 'What! You too? I thought I was the only one.'" — C.S. Lewis
  2. "The only way to have a friend is to be one." — Ralph Waldo Emerson
  3. "In the end, we will remember not the words of our enemies, but the silence of our friends." — Martin Luther King Jr.
  4. "The greatest glory in living lies not in never falling, but in rising every time we fall." — Nelson Mandela
  5. "Life is what happens when you're busy making other plans." — John Lennon
  6. "The best way to find yourself is to lose yourself in the service of others." — Mahatma Gandhi
  7. "The only limit to our realization of tomorrow is our doubts of today." — Franklin D. Roosevelt
  8. "Good friends are like stars. You don't always see them, but you know they're always there." — Unknown
  9. "We don't have to agree on anything to be kind to one another." — Unknown
  10. "People may not remember what you said, but they will remember how you made them feel." — Maya Angelou

Working Life

  1. "Choose a job you love, and you will never have to work a day in your life." — Confucius
  2. "Success is not the key to happiness. Happiness is the key to success. If you love what you are doing, you will be successful." — Albert Schweitzer
  3. "The future depends on what you do today." — Mahatma Gandhi
  4. "Don’t watch the clock; do what it does. Keep going." — Sam Levenson
  5. "Opportunities don't happen. You create them." — Chris Grosser
  6. "The only way to do great work is to love what you do." — Steve Jobs
  7. "Your work is going to fill a large part of your life, and the only way to be truly satisfied is to do what you believe is great work." — Steve Jobs
  8. "Work hard in silence, let success make the noise." — Frank Ocean
  9. "Dreams don’t work unless you do." — John C. Maxwell
  10. "It's not about having the right opportunities. It's about handling the opportunities right." — Mark Cuban

Humanity

  1. "The best way to find yourself is to lose yourself in the service of others." — Mahatma Gandhi
  2. "We can’t help everyone, but everyone can help someone." — Ronald Reagan
  3. "To the world you may be one person, but to one person you may be the world." — Dr. Seuss
  4. "You must be the change you wish to see in the world." — Mahatma Gandhi
  5. "The true measure of any society can be found in how it treats its most vulnerable members." — Mahatma Gandhi
  6. "Humanity is not limited by boundaries or color; it is bound by empathy and understanding." — Unknown
  7. "We are not just a collection of individuals, but a collective of humanity." — Unknown
  8. "The greatest gift of human beings is that we have the power of empathy." — Meryl Streep
  9. "In a world where you can be anything, be kind." — Unknown
  10. "The greatness of a nation and its moral progress can be judged by the way its animals are treated." — Mahatma Gandhi

Charity

  1. "No one has ever become poor by giving." — Anne Frank
  2. "Charity begins at home, but should not end there." — Thomas Fuller
  3. "The best way to find yourself is to lose yourself in the service of others." — Mahatma Gandhi
  4. "To love and be loved is to feel the sun from both sides." — David Viscott
  5. "When we give cheerfully and accept gratefully, everyone is blessed." — Maya Angelou
  6. "The simplest way to make a difference is to care." — Unknown
  7. "We make a living by what we get, but we make a life by what we give." — Winston Churchill
  8. "There is no exercise better for the heart than reaching down and lifting people up." — John Holmes
  9. "You have not lived today until you have done something for someone who can never repay you." — John Bunyan
  10. "The best way to cheer yourself up is to try to cheer somebody else up." — Mark Twain

General Wisdom

  1. "The only thing necessary for the triumph of evil is for good men to do nothing." — Edmund Burke
  2. "Peace begins with a smile." — Mother Teresa
  3. "Life is really simple, but we insist on making it complicated." — Confucius
  4. "Be kind whenever possible. It is always possible." — Dalai Lama
  5. "The journey of a thousand miles begins with one step." — Lao Tzu
  6. "Every person you meet is fighting a battle you know nothing about. Be kind. Always." — Unknown
  7. "Success is not in what you have, but who you are." — Bo Bennett
  8. "You miss 100% of the shots you don’t take." — Wayne Gretzky
  9. "Happiness is not something ready-made. It comes from your own actions." — Dalai Lama
  10. "The only limit to our realization of tomorrow is our doubts of today." — Franklin D. Roosevelt

Feel free to use these quotes to inspire or reflect on different aspects of life!

خلیفہ کا روزینہ

 


خلیفہ کا روزینہ:

حضرت ابو بکر کپڑا بیچنے کا کاروبار کرتے تھے۔ خلیفہ منتخب ہو جانے کے اگلے دن بھی انہیں بازار میں دیکھا گیا وہ کپڑوں کا ایک گٹھا کاندھوں پر اٹھائے چلے جا رہے تھے۔ راستے میں انہیں حضرت عمر ملے اور ان سے پوچھنے لگے۔


آپ کہاں جا رہے ہیں۔“

 "بازار جا رہا ہوں۔“ 

"کیوں؟

روزی کمانے کے لیے ۔“

 تو کیا آپ خلیفہ المسلمین منتخب ہو جانے کے بعد بھی اپنا کاروبار جاری رکھیں گے؟“


بیشک ۔ ایک خلیفہ کو بھی کھانے کی ضرورت ہے اور اسے پہننے کے لیے بھی کچھ  چاہیے. 

لیکن اس سے آپ کے فرائض میں رکاوٹ پیش آسکتی ہے۔“ آئیے افسر خزاہ ابو عبیدہ آپ کے لیے کچھ انتظام کر دیگا۔“


دونوں ابو عبیدہ کے پاس پہنچے ۔ ابو عبیدہ نے کہا مہاجرین میں سے ہر شخص کو جو روزینہ ملتا ہے۔ وہ آپ کے لیے بھی مقرر کر دیا جائیگا۔ اس سے نہ کچھ کم ملے گا نہ زیادہ ایک جوڑا کپڑوں کا گرمیوں کے لیے اور ایک جوڑا سردیوں کے لیے ملے گا۔ جب یہ کپڑے پھٹ جائیں تو انہیں واپس کر کے اور لے سکتے ہیں۔


(ہسٹری اف اسلام-سیوطی)

 قصص الاسلام

مسلم بہنوں کیلئے دردِ دل سے ایک پیغام 😢



 مسلم بہنوں کیلئے دردِ دل سے ایک پیغام 😢

 ایک حدیث ایسی ہے کہ جو مجھے ہمیشہ بہت ڈراتی ہے ۔ کہ جس میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا "

میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جو جنت میں نہیں جائیں گے۔

اور حتی کہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے

حالانکہ جنت کی خوشبو سالوں کے فاصلوں سے آتی ہے. 

ان میں ایک گروہ ان عورتوں کا ہوگا۔ جو لباس پہن کر بھی ننگی ہوں گی جو مردوں کی طرف خود بھی مائل ہوتی ہیں۔ اور ان کو بھی اپنی طرف مائل کرنے والی ہیں ۔یہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکیں گی ۔

اس کا مطلب باریک لباس پہننا۔ یا اتنا ٹائٹ پہننا کہ جس سے جسم صاف واضح نظر آرہا ہے ٹانگیں، بازو، کمر سب نظر آرہا ہے ۔ یہ درست نہیں ہے ۔

قرآن کہتا ہے۔

ولا تبرجن تبرج الجاھلیة

جہالت والی زیب و زینت کر کے مت نکلو ۔

اور جہالت کے زمانے میں کیا ہوتا تھا۔ کہ عورتیں اپنے حسن و جمال کی نمائش آن کیا کرتی تھیں ۔سر پر تو حجاب لے لیتی تھیں لیکن اسے پیچھے ڈال لیتی تھیں جس سے ان کے سینے کھلے ہوتے تھے اور ان کا زیور حسن جو بھی زیب و زینت ہوتی تھی سب نظر آتی تھی. 

سوچیے !

کہیں میری پہچان ان جہالت کے زمانے کی عورت کی تو نہی ہے؟

مجھے دیکھ کر کیا کوئی پہچان سکتا ہے کہ میں واقعی ہی ایک مسلمان عورت ہوں؟

کیا میں نے کبھی یہ سوچا کہ جب میں بن سنور کر گھر سے نکلتی ہوں تو جتنی نظریں میری طرف اٹھتی ہیں ان سب کا گناہ میرے اوپر ہے۔ میں کتنوں کے گناہ اٹھا رہی ہوں ؟

کیا میں اتنے گناہ اٹھا سکتی ہوں ؟

اکثر خواتین کہتی ہیں ہم تو اپنے لیے سجتے سنورتے ہیں ۔ہم کسی کو دکھانے کے لیے تو نہیں کرتے۔

تو یہ بتائیں !!وہ شوق بھی کیا شوق ہے جس کی خاطر مجھے اپنی جنت کھونی پڑ جائے۔کیا کوئی شوق بھی اس قابل ہے۔ اتنی طاقت ہے کہ میں اس کے لیے اپنی جنت ہار جاوں۔ 

بعض کہتی ہیں پھر لوگ کیا کہیں گے۔ تو کیا لوگوں کی خاطر ہم اپنی جنت کی بات کرتے ہیں اپنی جنت کا سودا کرتے ہیں۔

وہ کونسا ایسا شوق ہے ؟ وہ کونسا ایسا بیوٹی کمپیٹیشن ہے ؟یا لوگوں کی تعریفوں کا شوق ہے جو مجھے میری جنت میرے اللہ سے بھی زیادہ عزیز ہوگیا۔

شیطان نے ہمارے ماں باپ آدم اور حوا کا بھی سب سے پہلے لباس ہی اتروایا تھا۔ وہ آج اولاد آدم کے ساتھ یہی کر رہا ہے۔ ہم اس کی چال کو سمجھ نہیں پا رہے۔

کبھی دل میں خیال آ ہی جائےتو شیطان ہزار تاویلیں سجھاتا ہے کہ اچھا کر لینا ۔ ابھی جلدی کیا ہے۔ کونسا عمر گزری جا رہی ہے۔ یہ جھانسا اس قدر کارآمد ہوتا ہے کہ ہم سمجھ کر بھی نا سمجھ بن جاتے ہیں حالانکہ انسان جانتا ہے کہ ملک الموت ٹائم بتا کر نہی آئے گا ۔اور جب وہ آئے گا تو ٹائم دے گا نہیں۔ یہ نہ ہو کہ ہمارا حجاب لینے کا پہلا دن وہ ہو جو ہمارا دنیا سے جانے کا دن ہو۔ اس لیے کہ کفن میں حجاب بھی شامل ہوتا ہے۔ اس بات پر سوچیے گا ضرور۔ ۔!!

چینچ کے لیے صدیاں نہیں چاہیے ہوتیں بلکہ بعض دفعہ چند گھڑیوں کا غوروفکر بھی انسان کی زندگی کو بدل دیتا ہے✨

اسکول یا تجربہ گاہ ( School or Training Center) 1951

 اسکول یا تجربہ گاہ

حقیقت میں اسکول بچوں کے لئے ایک تجربہ گاہ ہے ۔ جہاں وہ ہر طرح کی باتیں اور ہنر سیکھتے ہیں ۔ مگر ہمارے ہاں کے اسکول صرف کتابیں رڑانے کے لئے ہوتے ہیں ۔ جہاں بچوں کو مار ڈانٹ کر سبق ازبر کرائے جاتے ہیں ۔ حالانکہ انہیں کتابی تعلیم سے ہم سے کہیں زیادہ عملی کام سکھانے چاہئیں ۔ تاکہ تعلیم کا حقیقی منشا پورا ہو سکے اور وہ بڑے ہو کر محض منشی ہی نہ بنیں ۔ بلکہ انھیں دنیا کا کچھ عملی تجربہ بھی ہو اور اگر وہ کوئی کام یا تجارت کرنا چاہیں تو انہیں دقت نہ پیش آئے ۔

اس سلسلہ میں ہم پرائمری اسکول کے ایک ہیڈ ماسٹر کا تجربہ درج کرتے ہیں ۔ جس سے اس نے اسکول کے بچوں کو تجارت اور تجارت سے متعلق عام واقفیت بہم پہنچائی ۔ وہ کہتے ہیں ہمارے اسکول کے باہر بھی دوسرے مدارس کی طرح چھٹی کے وقت چند ایک خوانچہ فروش طرح طرح کی مٹھائیوں ، پھلوں اور کھلونوں کے خوانچے لے کر آجاتے تھے اور بچوں کے ہاتھ گلے سڑے پھل، باسی مٹھائیاں اور سستے کھلونے مہنگے  داموں بیچ کر خوب نفع کماتے۔ گراں  فروشی کے علاوہ جو بات مجھے اور اس سکول کے باقی سٹاف کو پریشان کرتی وہ اشیائے خوردنی تھیں ۔ جو خوانچہ فروش بڑی بے پروائی سے خوانچوں میں رکھتے اور جن کے متعلق یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کتنے دنوں کی رکھی ہوئی ہیں ۔ کئی دفعہ بچوں کے والدین نے شکائتی چٹھیاں لکھیں کہ بچوں کو ان مضر صحت اشیا  سے بچایا جائے ۔ مگر یہ میرے بس کی بات نہ تھی ۔ کیونکہ نہ تو خوانچہ فروشوں کو روکنا میرے بس  میں تھا اور نہ بچوں کو ان سے  خرید و فروخت سے باز رکھنا ۔ آخر  ایک دن میں نے اپنے عملہ سے مشورہ کیا اور بالاتفاق یہ رائے پاس ہوئی کہ ہمیں خود اسکو ل میں ایک چھوٹی سی دکان کھولنی چاہئے ۔ جو بچوں ہی کے چندے سے قائم ہو اور اس کا تمام انتظام و

انصرام بچوں ہی کے ہاتھ میں ہو ۔ تین دن بعد ہم اسکول میں ایک چھوٹی سی دکان کھولنے میں کامیاب ہو گئے ۔ جس میں ہم نے وہ چیزیں رکھیں جو جلد خراب نہ ہوں ۔ چار یا پانج بچوں کی ڈیوٹیاں بطور سیلز مین لگا دیں ۔ جن کی نگرانی کے لئے ایک اُستاد اُن کے پاس موجود رہتا ۔ ایک ہفتہ بعد یہ دیکھ کر ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بچوں نے بیرونی خوانچہ فروشوں سے خرید و فروخت  یک لخت بند کر دی ہے اور اب وہ اپنی ہی دُکان سے خریدتے ہیں ۔ اس کی دو وجہیں تھیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ دُکان اُن ہی کی تھی ۔ جس کے منافع میں وہ بھی حصہ دار تھے ۔ دوسرے یہاں سے انھیں چیزیں ارزاں اور اچھی حالت میں ملتی تھیں ۔ غرض کہ بچوں نے اس دکان کا اس گرم جوشی سے استقبال کیا کہ ایک ماہ بعد ہی ہمیں اس کام کو بڑھانا پڑا اور نئی نئی چیزیں خرید کر لانی پڑیں ۔ اس دُکان سے جہاں بچوں کو یہ فائدہ ہوا کہ وہ مضر صحت اشیاء خریدنے سے بچ گئے ۔ وہاں یہ فائدہ بھی ہوا کہ انہیں دکان داری ، تجارت اور خرید و فروخت کا ڈھنگ آگیا ۔ شروع شروع میں یہ وقت پیش آئی کہ کسی بچے  نے دو پیسے کی کوئی  چیز خریدی اور  چونی  دمی تو دکاندار بچہ سوچنے لگتا  کہ کتنے پیسے واپس کروں ۔ ایسے موقعوں پر نگراں اُستاد اُن کی مدد کرتا اور ایسے پیرائے میں سمجھاتا کہ وہ ان کے ذہن نشین ہو جاتا ۔ اس کے علاوہ ہم بچوں کو ہر ہفتہ کی آمدنی، خرچ اور نفع نقصان بھی سمجھاتے رہتے اور خرید و فروخت کے وقت ان سے  طرح طرح کے سوالات کرتے ۔ جو  بچے حساب میں بے حد کمزور تھے اور معمولی جمع تفریق بھی نہیں جانتے تھے  وہ بھی اس دکان کی بدولت بنیوں کے کان کاٹنے لگے ۔

اتفاق سے انہی دنوں متعلقہ انسپکٹر معائنہ کے لئے آئے تو اُنہوں نے ہمارے کام کو بہت سراہا اور ہمیں مشورہ دیا کہ ہمیں اسکول میں بچوں کا بینک بھی قائم کرنا چاہئے تا کہ بچے پیسہ پس انداز کرنا سیکھیں اور چنانچہ ان کے مشورہ کے مطابق ہم نے ایک بینک بھی کھول دیا اور اس کا منیجر، محاسب اور کلرک وغیرہ بھی بچے ہی مقرر کئے ۔ تھوڑے دنوں بعد یہ بینک بھی چمک نکلا اور بچے ایک پیسہ دو پیسہ روز بینک میں جمع کرانے لگے بہت سے بچوں نے اپنے والدین سے جیب خرچ لینا چھوڑ دیا ہے اور وہ بینک اور دُکان کے منافع سے ہی اپنا جیب خرچ چلاتے  ۔ تجربہ کے علاوہ ان کے حساب میں اتنی رقم جمع ہو گئی ہے کہ وہ اسکول سے فارغ ہونے کے بعد آینده تعلیم جاری رکھنے کے لئے خود کو رس خریدنے اور فیس داخل کرنے کی استطاعت رکھتے ۔

(1951)


کبھی نہ بھولوں گا, ( سید انعام علی شاہ انعام 1951 )

 

کبھی نہ بھولوں گا

پچھلے دنوں ماموں صاحب ملتان جارہے تھے. بچپن کی وجہ سے میرے دل میں بھی خواہش  پیدا ہوئی میں بھی جاؤں چنانچہ میں ماموں صاحب کے کمرے میں پہنچا۔

ماموں صاحب ۔ کیسے آئے ہو انعام میں ۔ جناب ایک خواہش ہے. اجازت ہو تو بیان کروں ۔ ماموں صاحب ۔ کہو، کہو، گھبراؤ مت ۔ میں بھی آپ کے ساتھ  ملتان  چلنا چاہتا ہوں ۔ چنانچہ ہم دونوں کمبل اور بیگ لے کر اسٹیشن پر پہنچے تقریباً نصف گھنٹہ انتظار کے بعد ٹرین آئی اور ہم دونوں سوار ہو گئے ۔ چھ گھنٹے بعد ہم ملتان چھاؤنی کے اسٹیشن پر پہنچے ۔ اُتر کر شہر  پہنچے سیر تو جس طرح ہوئی سو ہوئی ۔ واپسی کا حال سنئے:۔ تین دن کے بعد میرے ماموں صاحب نے کہا انعام آج چلنا چاہئے کہ نہیں ۔ میں نے کہا ضرور چلنا ہے چنانچہ ہم اسٹیشن پر پہنچے ۔ رات کا وقت تھا اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے دل کو باغ باغ کر رہے تھے ۔ میں کمبل اوڑھ کر سو گیا -  تھوڑی دیر بعد آنکھ کھلی تو ماموں صاحب ایک سفید ریش آدمی سے

باتیں کر رہے تھے ۔ میں بھی باتیں سننے  کے لئے اُٹھ بیٹھا ۔  قریباً نصف گھنٹہ باتیں کرنے کے بعد اس آدمی نے جانے کے لئے  اجازت مانگی !

وہ آدمی ۔ اچھا بھئی اجازت ؟ 

اب ہم جاتے ہیں ۔

ہم ۔ خدا حافظ ۔

اتنے میں سامنے سے ٹرین نے  آواز دی ہم اُٹھ کھڑے ہوئے۔

میرے ہاتھ میں سے دیکھا تو بیگ غائب،  جس میں تقریباً عید کا سامان تھا  ہم  دونوں پریشان ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے کیونکہ ٹرین پہنچ چکی تھی تلاش نہ کر سکے۔ اوداس و اوداس چہرے ہونٹوں کی مسکراہٹ غائب،  دل پریشان ،سوار ہو کر اپنے اسٹیشن پر  اُترے اور صرف کمبل لئے ہوئے گھر پہنچے۔

رشتہ داروں نے بیگ کے متعلق دریافت کیا ۔ ہم ابھی قصہ سنا رہے تھے کہ والد صاحب باہر سے ایک رقعہ اور وہی بیگ لے کر اندر داخل ہوئے۔ ہم نے دریافت کیا تو اُنہوں نے ارشاد فرمایا کہ ایک سفید ریش آدمی ابھی یہ خط اور بیگ دے گیا ہے ۔  میں نے بیگ کھولا تو اُس میں لکھا تھا " جب تم اپنے بیگ کا خیال نہیں کر سکتے تو اپنے ملک کی حفاظت کس  طرح کرو گے “

چنانچہ میں اُسی دن سے اب پاکستان کی بھلائی کی دعائیں مانگتا ہوں اور ہر ایک بھائی بہن کو اس چیز کی ترغیب دلاتا ہوں ۔ یہ مضمون ترغیب کے لئے شائع کرا رہا ہوں آپ بھی اس پر  ضرور عمل پیرا ہوں ۔

 پاکستان زندہ باد

( سید انعام علی شاہ انعام  1951 ) 

Duain

 اے میرے رب مجھے دین کی صحیح سمجھ عطاء فرما۔۔۔ سیدھا راستہ دیکھا وہ راستہ جو تیری رضا کے حصول کا ہو  ۔۔۔۔ اپنی رضا میں زندگی اور موت عطاء فر...