اذکار المساء شام کے مسنون اذکار

اذکار المساء

 شام کے مسنون اذکار  

🤲🏻یعنی وہ دعائیں جو رسول اللہﷺ پڑھا کرتے تھے ان دعاؤں کو مضبوطی سے پکڑیں ،خود پر لازم کرلیں ۔تاکہ جنّٙات شیاطین اورحاسدین کے شر سے حفاظت میں رہیں اور "قرب الہٰی" کا راستہ آسان ہوجائے 

ان شاء اللہ تعالیٰ


أعوذ بالله من الشيطان الرجيم.

بسم الله الرحمن الرحيم.

🌙 اَللهُ لَآ اِلٰهَ اِلاَّ ھُوَ اٙلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗ اِلَّا بِاِذْنِهٖ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَلَایُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖ  اِلَّا بِمَا شَآءَ وَسِعَ کُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَا یَؤُدُهٗ حِفْظُھُمَا وَھُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ o 

(1بار)

الله کے سوا کوئی معبود نہیں، وه زنده اور قائم رہنے والا ہے، اسے نه اونگھ آتی ہے نه نیند، اسی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے آگے اور پیچھے ہے، اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطه نہیں کرسکتے سوائے اس کے جو وه چاہے، اس کی کرسی آسمانوں اور زمین تک وسیع ہے اور ان کی حفاظت اسے نہیں تھکاتی اور وه بہت بلند اور بہت عظمت والا ہے۔

 ▪▪▪🌃▪▪▪▪ 

🕌 اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْد

اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْد

دس بار صبح و شام

▪ ▪▪▪🌃▪▪▪▪ 

🌙 اَللّٰھُمَّ بِکَ اَمْسَیْنَا وَبِکَ اَصْبَحْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوتُ وَاِلَیْکَ النُّشُورُ۔ (1بار)

اے الله! تیرے حکم سے ہم نے شام کی اور تیرے حکم سے ہم نے صبح کی اور تیرے حکم سے ہم جیتے اور تیرے حکم سے ہم مرتے ہیں اور تیری ہی طرف دوباره اٹھایا جانا ہے۔

▪ ▪▪▪🌃▪▪▪▪ 

🌙 اَللّٰهُمَّ مَاأَمْسَى بِيْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيْكَ لَك، فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْر (1 بار)

اے اللہ! شام کو جو نعمتيں میرے پاس ہیں وہ تیری ہی دی ہوئی ہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے، پس تیرے لیے ہی ساری حمد ہے اور تیرے لیے ہی شکر ہے۔

▪ ▪▪▪🌃▪▪▪▪

🌙 اَمْسَیْنَا عَلٰی فِطْرَةِ الْاِسْلَامِ وَعَلٰی کَلِمَةِ الْاِخْلَاصِ وَعَلٰی دِیْنِ نَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ صلی الله علیه وسلم وَعَلٰی مِلَّةِ اَبِیْنَا اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا وَّ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ۔ (1بار)

ہم نے شام کی فطرتِ اسلام پر، کلمه ٔ اخلاص پر اور اپنے نبی حضرت محمد صلی الله علیه وسلم کے دین پر اور اپنے باپ حضرت ابراہیم علیه السلام کی ملت پر جو یکسو مسلمان تھے اور وه مشرکوں میں سے نہیں تھے۔

▪ ▪▪▪🌃▪▪▪▪ 

🌙 اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَةِ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ رَبَّ کُلِّ شَیْءٍ وَّ مَلِیْکَهُ اَعُوْذبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِهِ وَاَنْ اَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِیْ سُوْءً اَوْ اَجُرَّهُ اِلٰی مُسْلِمٍ۔ (1بار)

اے الله! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے اور کھلے کے جاننے والے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، ہر چیز کا رب اور اس کا مالک ہے، میں تیری پناه چاہتا ہوں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے اور اس کے شرک کے شر سے اور یه که میں اپنی جان کو کسی برائی میں ملوث کروں یا کسی دوسرے مسلمان کو اس کی طرف مائل کروں۔

▪ ▪▪▪🌃▪▪▪▪ 

🌙 اَمْسَیْنَا وَاَمْسَی الْمُلْکُ لِلهِ وَالْحَمْدُ لِلهِ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَ لَهُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ، رَبِّ اَسْاَلُکَ خَیْرَ مَا فِیْ ھٰذِهِ اللَّیْلَةِ وَ خَیْرَ مَا بَعْدَھَا وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیْ ھٰذِهِ اللَّیْلَةِ وَ شَرِّ مَا بَعْدَھَا، رَبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَ سُوْءِ الْکِبَرِ، رَبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابٍ فِی النَّارِ وَ عَذَابٍ فِی الْقَبْرِ۔ (1بار)

ہم نے شام کی اور تمام عالم نے شام کی الله کے لیے اور تمام تعریفیں الله کے لیے ہیں، الله کے سواکوئی معبود برحق نہیں، وه اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں اور وه ہر چیز پر قادر ہے، اے میرے رب! میں تجھ سے آج کی رات کی اور جو اس کے بعد ہے اس کی بھلائی مانگتا ہوں اور میں تیری پناه چاہتا ہوں آج کی رات اور جو اس کے بعد ہے اس کی برائی سے، اے میرے رب! میں تیری پناه چاہتا ہوں سستی اور بدترین بڑھاپے سے، اے میرے رب! میں تیری پناه چاہتا ہوں آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے۔

▪ ▪▪▪🌃▪▪▪▪ 

🌙 اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ (3بار)

میں پناه مانگتا ہوں الله کے تمام کلمات کے ساتھ، ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے۔

▪ ▪▪▪🌃▪▪▪▪ 

🌙 بِسْمِ اللهِ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔ (3بار)

الله کے نام سے، وه ذات جس کے نام کے ساتھ کوئی چیز زمین میں اور آسمان میں نقصان نہیں دے سکتی اور وه سننے والا، جاننے والا ہے۔

▪ ▪▪▪🌃▪▪▪▪ 

🌙 اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَدَنِیْ، اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ سَمْعِیْ، اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَصَرِیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَ الْفَقْرِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا اِلٰهَ اِلاَّ اَنْتَ۔ (3 بار)

اے الله! میرے بدن میں مجھے عافیت دے، اے الله! میرے کانوں میں مجھے عافیت دے، اے الله! میری آنکھوں میں مجھے عافیت دے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اے الله! یقینا میں تیری پناه چاہتا ہوں کفر اور فقر و فاقه سے، اے الله! بے شک میں تیری پناه چاہتا ہوں عذابِ قبر سے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں 

▪ ▪▪▪🌃▪▪▪▪ 

🌙 یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ اَصْلِحْ لِیْ شَاْنِیْ کُلَّهُ وَ لَا تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ طَرْفَةَ عَیْنٍ۔ (1بار)

اے زنده اور قائم رہنے والے، تیری رحمت کے سبب سے فریاد کرتا ہوں که میرے سب کاموں کی اصلاح فرما دے اور پلک جھپکنے تک کے لیے بھی مجھے میرے نفس کے حوالے نه کر۔

▪ ▪▪▪🌃▪▪▪▪ 

🌙 رَضِیْتُ بِاللهِ رَبًّا وَّ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَّ بِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا۔ (3 بار)

میں الله کے معبود ہونے، اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد صلی الله علیه وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوا۔

    (صبح و شام تین بار) ترمذی 3389

▪▪▪▪🌃▪▪▪▪

🌙 اَللّٰھُمَّ إِنِّي اَمْسَيْتُ أُشْهِدُكَ وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ، وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ، أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ۔ (4 بار)

ترجمہ : اے اللہ! بیشک میں نے شام کی تجھ کو گواہ بناتا ہوے اور میں گواہ بناتا ہوں تیرا عرش اٹھانے والوں کو،اور تیرے فرشتوں کو اور تیری ساری مخلوق کو،(اس بات پر )کہ بے شک تو، تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں بے شک محمدؐ تیرے بندے اور رسول ہیں۔

▪▪▪▪🌃▪▪▪▪

🌙 اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُکَ وَ اَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَ وَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَاصَنَعْتُ اَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَ اَبُوْءُ لَکَ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ اِنَّهُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔ (1بار)

اے الله! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بنده ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں تیری پناه چاہتا ہوں ہر برائی سے جو میں نے کی، میں اپنے اوپر تیری عطا کرده نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے گناه کا اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے، یقینا تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔

▪ ▪▪▪🌃▪▪▪▪ 

🌙 اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الْعَفْوَ الْعَافِیَةَ فِی الدُّنْیَا وَ الْآخِرَةِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَةَ فِیْ دِیْنِیْ وَ دُنْیَایَ وَاَھْلِیْ وَ مَالِیْ، اَللّٰھُمَّ اسْتُرْعَوْرَاتِیْ وَ آمِنْ رَوْعَاتِیْ، اَللّٰھُمَّ احْفَظْنِیْ مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَ مِنْ خَلْفِیْ وَ عَنْ یَّمِیْنِیْ وَ عَنْ شِمَالِیْ وَ مِنْ فَوْقِیْ وَ اَعُوْذُ بِعَظَمَتِکَ اَنْ اُغْتَالَ مِنْ تَحْتِیْ۔ (1بار)

اے اللّٰه! بے شک میں آپ سے دنیا اور آخرت میں عافیت مانگتی ہوں، اے اللّٰه! بے شک میں آپ سے درگزر کا اور اپنے دین، دنیا، اہل اور مال کی عافیت کا سوال کرتی ہوں، اے اللّٰه! میرے عیب ڈھانپ دے اور مجھے خوف سے امن دے۔ اے اللّٰه! میری حفاظت کر، میرے سامنے سے اور میرے پیچھے سے اور میرے دائیں سے اور میرے بائیں سے اور میرے اوپر سے اور میں پناه چاہتی ہوں تیری عظمت کے ذریعے اس سے که میں نیچے سے ہلاک کیا جاؤں۔

▪ ▪▪▪🌃▪▪▪▪ 

🌙 قُلْ ھُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ o اَللّٰهُ الصَّمَدُ o لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ o وَ لَمْ یَکُنْ لَّهٗ کُفُوًا اَحَدٌ o ٍ۔ (تین بار)

کہہ دیجئے! که وه اللّٰه ایک ہے۔ اللّٰه بے نیاز ہے۔ نه اس سے کوئی پیدا ہوا اور نه ہی وه کسی سے پیدا ہوا، اور نه ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔

▪ ▪▪▪🌃▪▪▪▪ 

🌙 قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ o مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ o وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ o وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ o وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ o ٍ۔ (تین بار)

کہہ دیجئے! میں صبح کے رب کی پناه چاہتا ہوں۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب وه پھیل جائے، اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وه حسد کرے۔

▪ ▪▪ ▪🌃▪▪▪▪ 

🌙 قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ o مَلِکِ النَّاسِ o اِلٰهِ النَّاسِ o مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ o الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ o مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ o ٍ۔ (تین بار)

کہہ دیجئے! میں لوگوں کے رب کی پناه چاہتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی۔ لوگوں کے معبود کی۔ وسوسه ڈالنے والے، بار بار پلٹ کر آنے والے کے شر سے۔ وه جو لوگوں کے سینوں میں وسوسه ڈالتا ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے۔

▪ ▪▪▪🌃▪▪▪▪ 

🌙 لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَاشَرِیْکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔ (10 بار)

اللّٰه کے سوا کوئی معبود نہیں، وه اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وه ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

▪▪ ▪ ▪🌃▪▪▪▪

🌙 اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَ نَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ۔ ٍ (1 بار)

اے اللّٰه! بے شک ہم تجھ کو ان کے مقابلے میں رکھتے ہیں اور ان کے شر سے تیری پناه طلب کرتے ہیں 

▪▪ ▪ ▪🌃▪▪▪▪ 

🌙 اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّاتِ الَّتِیْ لَا یُجَاوِزُھُنَّ بَرٌّ وَّلَا فَاجِرٌ مِّنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْھَا وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَمِنْ کُلِّ طَارِقٍ اِلَّا طَارِقًا یَّطْرُقُ بِخَیْرٍ یَّا رَحْمَانُ۔ ٍ۔ (1 بار)

میں اللّٰه تعالیٰ کے ان تمام کلمات کے ساتھ پناه چاہتا ہوں جن سے آگے نه تو کوئی نیک اور نه ہی کوئی برا شخص بڑھ سکتا ہے، ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے اترتی ہے اور جو اس میں چڑھتی ہے اور رات اور دن کے فتنوں کے شر سے اور ہر حادثے کے شر سے سوائے اس حادثے کے جو خیر کا باعث ہو، اے رحم فرمانے والے۔

▪▪▪▪🌃▪▪▪▪

🌙 حَسْبِيَ اللّٰهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ (7 مرتبہ)

ترجمہ

مجھے اللّٰه ہی کافی ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں‌ ، اس پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا رب ہے ۔

▪▪▪▪🌃▪▪▪▪

🌙 اَسْتَغْفِرُاللّٰهَ

میں اللہ سے بخشش مانگتی ہوں 

صبح و شام 100 (سو)بار 

▪▪▪▪🌃▪▪▪▪

🌙 سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ

اللّٰه پاک ہے اسی تعریف ہے 

صبح وشام 100(سو)بار


•--•⊰✿🌹 جزاكم ﷲ خيرا🌹✿⊱


اندرونی سکون اور روزمرہ کی زندگی میں اس کی اہمیت

 اندرونی سکون اور روزمرہ کی زندگی میں اس کی اہمیت

اندرونی سکون ذہنی اور جذباتی سکون کی حالت ہے، پریشانی، تناؤ اور اندرونی انتشار سے پاک۔ اس کی اہمیت کو بڑھاوا نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ یہ ایک صحت مند، متوازن اور بھرپور زندگی کی بنیاد رکھتا ہے۔ یہاں کچھ اہم وجوہات ہیں کہ اندرونی سکون کیوں ضروری ہے:


1. ذہنی وضاحت اور توجہ

اندرونی سکون آپ کے دماغ کو خلفشار یا ذہنی بے ترتیبی کے بغیر کام کرنے دیتا ہے۔ جب آپ سکون میں ہوتے ہیں، تو آپ واضح طور پر سوچ سکتے ہیں، صحیح فیصلے کر سکتے ہیں، اور مسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے حل کر سکتے ہیں۔ یہ ذہنی وضاحت پیداوری اور تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھاتی ہے، جس کے نتیجے میں ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی دونوں میں بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔


2. جذباتی استحکام

اندرونی سکون جذباتی توازن کو فروغ دیتا ہے، غصہ، مایوسی اور اداسی جیسے منفی جذبات کو کم کرتا ہے۔ یہ آپ کو چیلنجوں کا جواب دینے کے قابل بناتا ہے نہ کہ جذباتی طور پر ردعمل ظاہر کرنے کی بجائے سکون اور صبر کے ساتھ۔ یہ جذباتی استحکام تعلقات کو مضبوط کرتا ہے اور مجموعی صحت کو بہتر بناتا ہے۔


3. تناؤ میں کمی

اندرونی سکون کی حالت میں رہنا تناؤ، اضطراب اور خوف کے اثرات کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ دائمی تناؤ مختلف جسمانی اور ذہنی صحت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے، بشمول دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، اور ڈپریشن۔ اندرونی سکون کو فروغ دینے سے، آپ تناؤ کو کم کرتے ہیں اور ایک صحت مند، زیادہ پر سکون طرز زندگی کو فروغ دیتے ہیں۔


4. بہتر جسمانی صحت

ذہنی سکون اور جسمانی صحت کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ اندرونی سکون آرام کو فروغ دیتا ہے، کورٹیسول کی سطح کو کم کرتا ہے، اور نیند کے معیار کو بہتر بناتا ہے۔ یہ تناؤ سے متعلق بیماریوں کے خطرے کو کم کرتا ہے، قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے، اور مجموعی طور پر جیورنبل کو بڑھاتا ہے۔


5. بہتر تعلقات

جب آپ خود پر سکون ہوتے ہیں، تو آپ ہمدردی اور افہام و تفہیم کے ساتھ باہمی تعلقات کو سنبھالنے کے لیے بہتر طریقے سے لیس ہوتے ہیں۔ اندرونی امن مثبت بات چیت کو برقرار رکھنے، تنازعات کو پرسکون طریقے سے حل کرنے اور مضبوط، صحت مند تعلقات استوار کرنے میں مدد کرتا ہے۔


6. روحانی ترقی

بہت سے لوگوں کے لیے، اندرونی سکون روحانی ترقی اور خود آگاہی سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ یہ آپ کو اپنے باطن سے جڑنے، اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے، اور اطمینان اور تکمیل کا احساس پیدا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اندرونی سکون ذاتی ترقی اور دنیا اور اس میں آپ کے مقام کے بارے میں گہری تفہیم کا باعث بنتا ہے۔


7. چیلنجوں کا سامنا کرنے میں لچک

اندرونی سکون کا مطلب مسائل کی عدم موجودگی نہیں ہے، لیکن یہ آپ کو زندگی کے چیلنجوں کا سکون سے مقابلہ کرنے کی طاقت اور لچک فراہم کرتا ہے۔ جب آپ اندرونی طور پر سکون میں ہوتے ہیں، تو آپ مشکل حالات میں مثبت نقطہ نظر کے ساتھ نیویگیٹ کرنے اور ہنگامہ خیز اوقات میں توازن برقرار رکھنے کے زیادہ اہل ہوتے ہیں۔


8. خوشی اور تکمیل

حقیقی خوشی اندرونی سکون سے حاصل ہوتی ہے، بیرونی کامیابیوں یا مادی املاک سے نہیں۔ جب آپ اندرونی سکون پیدا کرتے ہیں، تو آپ کو قناعت کا گہرا احساس ہوتا ہے، چاہے بیرونی حالات کچھ بھی ہوں۔ بہبود اور ہم آہنگی کی یہ حالت زیادہ خوشگوار اور مکمل زندگی کی طرف لے جاتی ہے۔


9. بہتر خود پر قابو

اندرونی سکون آپ کے جذبات، خیالات اور ردعمل پر بہتر کنٹرول لاتا ہے۔ یہ جذباتی رویوں اور خواہشات میں مہارت حاصل کرنے میں مدد کرتا ہے، آپ کو مختلف حالات میں مقصد اور حکمت کے ساتھ کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ خود مختاری ذاتی ترقی اور جذباتی ذہانت میں معاون ہے۔


10. ایک پرامن معاشرے میں شراکت

جب افراد اندرونی امن پیدا کرتے ہیں، تو وہ ایک زیادہ پرامن معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں۔ جیسے جیسے زیادہ لوگ اندرونی سکون اور ہم آہنگی کا تجربہ کرتے ہیں، اجتماعی ماحول زیادہ ہمدرد، تعاون پر مبنی اور ہم آہنگ ہوتا جاتا ہے۔ اس طرح، اندرونی سکون نہ صرف فرد بلکہ وسیع تر کمیونٹی کو بھی فائدہ پہنچاتا ہے۔


جوہر میں، اندرونی سکون ایک متوازن، صحت مند، اور خوش زندگی کی بنیاد ہے۔ ذہن سازی، مراقبہ، خود آگاہی، اور جذباتی ضابطے کے ذریعے اسے فروغ دینے سے گہرے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جو زندگی کے ہر شعبے میں پھیلتے ہیں۔

جب آپ کو ہائی بلڈ پریشر ہو تو کیا کھائیں؟

 جب آپ کو ہائی بلڈ پریشر ہو تو کیا کھائیں؟


کس چیز سے بچنا ہے۔

کاسینین کا کہنا ہے کہ محرکات جیسے کافی اور سافٹ ڈرنکس جن میں کیفین ہوتی ہے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ کافی جسم میں تناؤ کے ہارمونز کو بڑھاتی ہے جس سے کافی پینے والوں کو دل کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تمباکو، شراب، چاکلیٹ، چینی، مکھن اور سرخ گوشت۔ تلی ہوئی غذائیں، پراسیس شدہ اور بہتر کھانے، سافٹ ڈرنکس، مسالیدار کھانے اور سفید آٹے کی مصنوعات، جیسے سفید روٹی

اگر آپ خون کے جمنے کو پگھلانے کے لیے دوائیں لے رہے ہیں، جیسے وارفرین، ہیپرین یا اسپرین، تو وٹامن K والی غذاؤں کی مقدار کو محدود کریں۔ وٹامن K والی غذائیں کھانے سے خون کے جمنے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ ایسی غذاؤں میں بروکولی، پھول گوبھی، انڈے کی زردی، جگر اور گہری سبز سبزیاں شامل ہیں۔

سیر شدہ چربی۔ یہ جانوروں کی مصنوعات جیسے گوشت اور دودھ کی کھانوں میں پائے جاتے ہیں اور ان میں کولیسٹرول کی اعلی سطح ہوتی ہے۔

اپنی خوراک میں سوڈیم کے ذرائع جیسے نمک کو کم کریں۔ سوڈیم سیال کی برقراری کو بڑھاتا ہے اور دل کو سخت محنت کرتا ہے۔

بہت زیادہ پروسس شدہ، نمکین کھانے جیسے بیکن، پراسیس شدہ پنیر، نمکین مکھن اور کرسپ کھانے سے پرہیز کریں۔

 

کھانے میں کیا ہے

 

        اینٹی آکسیڈنٹ مادوں سیلینیم، بیٹا کیروٹین، وٹامن سی اور ای سے بھرپور غذائیں جو جسم میں پیدا ہونے والے فری ریڈیکلز-کیمیکلز سے لڑتی ہیں اور جو جسم کے خلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ان میں تازہ پھل، ٹماٹر، گاجر، میٹھے آلو، گہرے پتوں والی سبزیاں اور سارا اناج کی مصنوعات شامل ہیں۔

فائبر سے بھرپور غذائیں۔ ان میں مکمل اناج کی روٹی، براؤن رائس، پاستا، جئی، پھلیاں، مٹر، دال، اناج اور بیج شامل ہیں۔

اپنی خوراک میں انگور، بینگن اور سرخ بند گوبھی شامل کریں۔ ان میں اینتھوسیانیڈن ہوتا ہے جو خون کی نالیوں کو پھیلاتا ہے، جو خون کو آزادانہ طور پر بہنے میں مدد کرتا ہے۔

روزانہ کم از کم آٹھ گلاس پانی پئیں

لہسن اور پیاز کو اپنی خوراک میں شامل کریں۔ ان میں ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ زیتون کا تیل - یہ کولیسٹرو کی سطح کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

اس کے علاوہ مچھلی کے تیل جیسے کاڈ لیور آئل، جو کہ دباؤ کو روکنے میں کارگر ثابت ہوتے ہیں۔

سونف، اوریگانو، کالی مرچ، تلسی اور ٹیراگن جیسے مصالحے میں فعال اجزاء ہوتے ہیں جو بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ انہیں اپنے کھانا پکانے میں استعمال کریں۔

 

Source: What to eat when you have high blood pressure (msn.com)

 

Duain

 اے میرے رب مجھے دین کی صحیح سمجھ عطاء فرما۔۔۔ سیدھا راستہ دیکھا وہ راستہ جو تیری رضا کے حصول کا ہو  ۔۔۔۔ اپنی رضا میں زندگی اور موت عطاء فر...