اسکول یا تجربہ گاہ ( School or Training Center) 1951

 اسکول یا تجربہ گاہ

حقیقت میں اسکول بچوں کے لئے ایک تجربہ گاہ ہے ۔ جہاں وہ ہر طرح کی باتیں اور ہنر سیکھتے ہیں ۔ مگر ہمارے ہاں کے اسکول صرف کتابیں رڑانے کے لئے ہوتے ہیں ۔ جہاں بچوں کو مار ڈانٹ کر سبق ازبر کرائے جاتے ہیں ۔ حالانکہ انہیں کتابی تعلیم سے ہم سے کہیں زیادہ عملی کام سکھانے چاہئیں ۔ تاکہ تعلیم کا حقیقی منشا پورا ہو سکے اور وہ بڑے ہو کر محض منشی ہی نہ بنیں ۔ بلکہ انھیں دنیا کا کچھ عملی تجربہ بھی ہو اور اگر وہ کوئی کام یا تجارت کرنا چاہیں تو انہیں دقت نہ پیش آئے ۔

اس سلسلہ میں ہم پرائمری اسکول کے ایک ہیڈ ماسٹر کا تجربہ درج کرتے ہیں ۔ جس سے اس نے اسکول کے بچوں کو تجارت اور تجارت سے متعلق عام واقفیت بہم پہنچائی ۔ وہ کہتے ہیں ہمارے اسکول کے باہر بھی دوسرے مدارس کی طرح چھٹی کے وقت چند ایک خوانچہ فروش طرح طرح کی مٹھائیوں ، پھلوں اور کھلونوں کے خوانچے لے کر آجاتے تھے اور بچوں کے ہاتھ گلے سڑے پھل، باسی مٹھائیاں اور سستے کھلونے مہنگے  داموں بیچ کر خوب نفع کماتے۔ گراں  فروشی کے علاوہ جو بات مجھے اور اس سکول کے باقی سٹاف کو پریشان کرتی وہ اشیائے خوردنی تھیں ۔ جو خوانچہ فروش بڑی بے پروائی سے خوانچوں میں رکھتے اور جن کے متعلق یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کتنے دنوں کی رکھی ہوئی ہیں ۔ کئی دفعہ بچوں کے والدین نے شکائتی چٹھیاں لکھیں کہ بچوں کو ان مضر صحت اشیا  سے بچایا جائے ۔ مگر یہ میرے بس کی بات نہ تھی ۔ کیونکہ نہ تو خوانچہ فروشوں کو روکنا میرے بس  میں تھا اور نہ بچوں کو ان سے  خرید و فروخت سے باز رکھنا ۔ آخر  ایک دن میں نے اپنے عملہ سے مشورہ کیا اور بالاتفاق یہ رائے پاس ہوئی کہ ہمیں خود اسکو ل میں ایک چھوٹی سی دکان کھولنی چاہئے ۔ جو بچوں ہی کے چندے سے قائم ہو اور اس کا تمام انتظام و

انصرام بچوں ہی کے ہاتھ میں ہو ۔ تین دن بعد ہم اسکول میں ایک چھوٹی سی دکان کھولنے میں کامیاب ہو گئے ۔ جس میں ہم نے وہ چیزیں رکھیں جو جلد خراب نہ ہوں ۔ چار یا پانج بچوں کی ڈیوٹیاں بطور سیلز مین لگا دیں ۔ جن کی نگرانی کے لئے ایک اُستاد اُن کے پاس موجود رہتا ۔ ایک ہفتہ بعد یہ دیکھ کر ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بچوں نے بیرونی خوانچہ فروشوں سے خرید و فروخت  یک لخت بند کر دی ہے اور اب وہ اپنی ہی دُکان سے خریدتے ہیں ۔ اس کی دو وجہیں تھیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ دُکان اُن ہی کی تھی ۔ جس کے منافع میں وہ بھی حصہ دار تھے ۔ دوسرے یہاں سے انھیں چیزیں ارزاں اور اچھی حالت میں ملتی تھیں ۔ غرض کہ بچوں نے اس دکان کا اس گرم جوشی سے استقبال کیا کہ ایک ماہ بعد ہی ہمیں اس کام کو بڑھانا پڑا اور نئی نئی چیزیں خرید کر لانی پڑیں ۔ اس دُکان سے جہاں بچوں کو یہ فائدہ ہوا کہ وہ مضر صحت اشیاء خریدنے سے بچ گئے ۔ وہاں یہ فائدہ بھی ہوا کہ انہیں دکان داری ، تجارت اور خرید و فروخت کا ڈھنگ آگیا ۔ شروع شروع میں یہ وقت پیش آئی کہ کسی بچے  نے دو پیسے کی کوئی  چیز خریدی اور  چونی  دمی تو دکاندار بچہ سوچنے لگتا  کہ کتنے پیسے واپس کروں ۔ ایسے موقعوں پر نگراں اُستاد اُن کی مدد کرتا اور ایسے پیرائے میں سمجھاتا کہ وہ ان کے ذہن نشین ہو جاتا ۔ اس کے علاوہ ہم بچوں کو ہر ہفتہ کی آمدنی، خرچ اور نفع نقصان بھی سمجھاتے رہتے اور خرید و فروخت کے وقت ان سے  طرح طرح کے سوالات کرتے ۔ جو  بچے حساب میں بے حد کمزور تھے اور معمولی جمع تفریق بھی نہیں جانتے تھے  وہ بھی اس دکان کی بدولت بنیوں کے کان کاٹنے لگے ۔

اتفاق سے انہی دنوں متعلقہ انسپکٹر معائنہ کے لئے آئے تو اُنہوں نے ہمارے کام کو بہت سراہا اور ہمیں مشورہ دیا کہ ہمیں اسکول میں بچوں کا بینک بھی قائم کرنا چاہئے تا کہ بچے پیسہ پس انداز کرنا سیکھیں اور چنانچہ ان کے مشورہ کے مطابق ہم نے ایک بینک بھی کھول دیا اور اس کا منیجر، محاسب اور کلرک وغیرہ بھی بچے ہی مقرر کئے ۔ تھوڑے دنوں بعد یہ بینک بھی چمک نکلا اور بچے ایک پیسہ دو پیسہ روز بینک میں جمع کرانے لگے بہت سے بچوں نے اپنے والدین سے جیب خرچ لینا چھوڑ دیا ہے اور وہ بینک اور دُکان کے منافع سے ہی اپنا جیب خرچ چلاتے  ۔ تجربہ کے علاوہ ان کے حساب میں اتنی رقم جمع ہو گئی ہے کہ وہ اسکول سے فارغ ہونے کے بعد آینده تعلیم جاری رکھنے کے لئے خود کو رس خریدنے اور فیس داخل کرنے کی استطاعت رکھتے ۔

(1951)


No comments:

Post a Comment

Duain

 اے میرے رب مجھے دین کی صحیح سمجھ عطاء فرما۔۔۔ سیدھا راستہ دیکھا وہ راستہ جو تیری رضا کے حصول کا ہو  ۔۔۔۔ اپنی رضا میں زندگی اور موت عطاء فر...