کبھی نہ بھولوں گا
پچھلے دنوں ماموں صاحب ملتان جارہے تھے. بچپن کی وجہ سے میرے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی میں بھی جاؤں چنانچہ میں ماموں صاحب کے کمرے میں پہنچا۔
ماموں صاحب ۔ کیسے آئے ہو انعام میں ۔ جناب ایک خواہش ہے. اجازت ہو تو بیان کروں ۔ ماموں صاحب ۔ کہو، کہو، گھبراؤ مت ۔ میں بھی آپ کے ساتھ ملتان چلنا چاہتا ہوں ۔ چنانچہ ہم دونوں کمبل اور بیگ لے کر اسٹیشن پر پہنچے تقریباً نصف گھنٹہ انتظار کے بعد ٹرین آئی اور ہم دونوں سوار ہو گئے ۔ چھ گھنٹے بعد ہم ملتان چھاؤنی کے اسٹیشن پر پہنچے ۔ اُتر کر شہر پہنچے سیر تو جس طرح ہوئی سو ہوئی ۔ واپسی کا حال سنئے:۔ تین دن کے بعد میرے ماموں صاحب نے کہا انعام آج چلنا چاہئے کہ نہیں ۔ میں نے کہا ضرور چلنا ہے چنانچہ ہم اسٹیشن پر پہنچے ۔ رات کا وقت تھا اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے دل کو باغ باغ کر رہے تھے ۔ میں کمبل اوڑھ کر سو گیا - تھوڑی دیر بعد آنکھ کھلی تو ماموں صاحب ایک سفید ریش آدمی سے
باتیں کر رہے تھے ۔ میں بھی باتیں سننے کے لئے اُٹھ بیٹھا ۔ قریباً نصف گھنٹہ باتیں کرنے کے بعد اس آدمی نے جانے کے لئے اجازت مانگی !
وہ آدمی ۔ اچھا بھئی اجازت ؟
اب ہم جاتے ہیں ۔
ہم ۔ خدا حافظ ۔
اتنے میں سامنے سے ٹرین نے آواز دی ہم اُٹھ کھڑے ہوئے۔
میرے ہاتھ میں سے دیکھا تو بیگ غائب، جس میں تقریباً عید کا سامان تھا ہم دونوں پریشان ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے کیونکہ ٹرین پہنچ چکی تھی تلاش نہ کر سکے۔ اوداس و اوداس چہرے ہونٹوں کی مسکراہٹ غائب، دل پریشان ،سوار ہو کر اپنے اسٹیشن پر اُترے اور صرف کمبل لئے ہوئے گھر پہنچے۔
رشتہ داروں نے بیگ کے متعلق دریافت کیا ۔ ہم ابھی قصہ سنا رہے تھے کہ والد صاحب باہر سے ایک رقعہ اور وہی بیگ لے کر اندر داخل ہوئے۔ ہم نے دریافت کیا تو اُنہوں نے ارشاد فرمایا کہ ایک سفید ریش آدمی ابھی یہ خط اور بیگ دے گیا ہے ۔ میں نے بیگ کھولا تو اُس میں لکھا تھا " جب تم اپنے بیگ کا خیال نہیں کر سکتے تو اپنے ملک کی حفاظت کس طرح کرو گے “
چنانچہ میں اُسی دن سے اب پاکستان کی بھلائی کی دعائیں مانگتا ہوں اور ہر ایک بھائی بہن کو اس چیز کی ترغیب دلاتا ہوں ۔ یہ مضمون ترغیب کے لئے شائع کرا رہا ہوں آپ بھی اس پر ضرور عمل پیرا ہوں ۔
پاکستان زندہ باد
( سید انعام علی شاہ انعام 1951 )
No comments:
Post a Comment