فتح
اعجاز احمد
ایک دن جنگل کا سکون غارت ہو گیا اس جنگل میں رہنے والے ایک ہاتھی نے اس جنگل کے پر سکون ماحول کو درہم برہم کر دیا۔ ہوا یہ کہ اس ہاتھی کے دل میں اپنی طاقت کا غرور بھر گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ وہ جنگل کا سب سے طاقتور جانور ہے باقی جانوروں کو اس سے دب کر رہنا چاہئے یہ سوچتے ہی وہ اچھلنے کودنے لگا اس نے ہری ہری گھاس کو کچل دیا پھولوں کی کیاریوں کو روند ڈالا کئی چھوٹے بڑے درخت اپنی سونڈ میں لپیٹ کر جڑوں سے اکھاڑ پھینک دیئے اور جو بھی جانور نظر آیا اس کا پیچھا کر کے اسے اپنے وزنی پاؤں تلے روند ڈالا اور کسی کو اپنی سونڈ میں لپیٹ کر دور پھینک کر موت کے گھاٹ اتار دیا. دیکھتے ہی دیکھتے اس نے جنگل میں ہنگامہ مچاد یا بیچارے چھوٹے بڑے جانور اس کے ڈر سے اپنے اپنے بلوں گھروندوں اور کچھاروں سے نکل کر دور دور بھاگنے لگے ۔
جنگل کے کچھ جانوروں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ کسی کی بات ماننے اور کسی کی نصیحت سننے پر آمادہ نہ ہوا اور پھر جانوروں نے اسے کہنا ہی بند کر دیا اور جنگل کا ہر جانور دل سے اس ہاتھی سے نفرت کرنے لگا لیکن وہ سب مجبور تھے وہ کمزور تھے اور ہاتھی طاقت ور تھا کمزور جانور اس ہاتھی کو ظلم کرنے سے باز نہ رکھ سکے وہ اپنی جان بچانے کو ہی غنیمت سمجھتے۔
جنگل کے چھوٹے بڑے ، بڑے جانور اس ظالم گندے ہاتھی کو کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑے ہوتے اور کئی دن ایسے بھی آتے جب اس ہاتھی کو ستانے کے لئے کوئی جانور ہاتھ نہ لگتا۔ چونکہ ظلم کرنا اور دوسروں کو ستانا اس کی عادت بن گئی جس دن اسے کوئی جانور نہیں ملتا اس دن اسے بڑی بے چینی محسوس ہوتی وہ گھاس اور درختوں کو توڑ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالتا لیکن جو مزہ اسے زندہ جانوروں کو ستانے میں آتا وہ گھاس پھونس کو روندنے میں نہ ملتا۔
ایک ایسے ہی دن جب کوئی جانور اس کے ہاتھ نہ آیا اور وہ بڑا اداس ہو کر جنگل میں پھر رہا تھا اس کی اچانک نظر زمین پر بکھری ہوئی چیونٹیوں پر پڑی ۔ اگر چہ اس جنگل کی چیونٹیوں تک بھی اس ظالم اور گندے ہاتھی کی ظلم کی داستانیں پہنچ چکی تھیں لیکن چیونٹیوں کا خیال تھا کہ کہاں پہاڑ برابر اور کہاں روئی برابر چیونٹیاں بھلا ہا تھی اور چیونٹی کا کیا مقابلہ چیونٹی تو اتنی حقیر اور بے مایہ جانور ہے کہ ہاتھی انہیں تنگ کرنے یا مارنے کا سوچے گا بھی نہیں۔ لیکن ان معصوم چیونٹیوں کو اس بات کی خبر نہیں تھی کہ جب کوئی جاندار ظلم کرنے کا عادی ہو جاتا ہے تو وہ چھوٹے بڑے کی تمیز کئے بغیر ظلم کرتا ہے وہ چیونٹیاں ہاتھی کے ظلم سے بے پروا ہو کر اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھیں کہ ظالم ہاتھی - ان پر حملہ آور ہو گیا۔ وہ ان کے بل اور گھروندے تباہ کرنے لگا اس نے زور زور سے اپنے بھاری پاؤں زمین پر مارے اور اس طرح ہزاروں چیونٹیوں کے بل تباہ ہو گئے اور سینکڑوں چیونٹیاں اور چیونٹے مر گئے اور ہزاروں چیونٹیاں اس ناگہانی آفت سے بچنے کے لئے ادھر ادھر بھاگنے
لگیں۔ اب ہاتھی کا معمول بن گیا کہ جب اسے کوئی چھوٹا یا بڑا جانور نہ ملتا تو وہ اپنا غصہ اتارنے کے لئے اس طرف چلا جاتا جہاں چیونٹیوں نے اپنے گھر بنارکھے تھے۔
اس ظالم ہاتھی نے کئی مرتبہ چیونٹیوں کے گھر تباہ کئے اور ہزاروں چیونٹیوں اور چیونٹوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ ایک دن ایک نوجوان چیونٹا غصے سے بھڑک اٹھا۔
ہم یہ ظلم کب تک برداشت کریں گے؟" اس نے اپنے بزرگوں اور نوجوان ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا۔ لیکن ہم کر ہی کیا سکتے ہیں ؟ ایک بزرگ چیونٹے نے الٹا سوال کیا۔
ہم مقابلہ کریں گے اگرچہ ہم ہاتھی کے مقابلے میں نہایت کمزور ہیں لیکن ہم پھر بھی مقابلہ کریں گے۔ ہم بزدلی کی موت کی بجائے عزت کی موت قبول کریں گے " جب ہم نے کبھی نہ کبھی مرنا ہے تو کیوں نہ مقابلہ کرتے ہوئے مریں ہم بہت سے چھوٹے چھوٹے چیونٹے مل کر ہاتھی کا مقابلہ کریں گے شاید ہم اسے شکست دے ہی ڈالیں نوجوان چیونٹے نے ایک عزم سے کہا نوجوان چیونٹے کی یہ تقریر دیگر بہت سے چیونٹوں کو پسند آئی چنانچہ ہر طرف سے ”ہم مقابلہ کریں گے ہم مقابلہ کریں گے “ کی آوازیں آنے لگیں۔ چند دنوں بعد ہاتھی چیونٹیوں کی بستی پر حملہ آور ہوا تو وہ یہ دیکھا کر حیران رہ گیا کہ چیونٹیاں اور چیونٹے اس سے ڈر کر بھاگنے کی بجائے مقابلہ پر اتر آئیں ہیں ہاتھی نے سوچا چلو اچھا شکار ملا ہے اس نے اپنا بھاری پاؤں مار مار کر سینکڑوں ہزاروں چیونٹوں کو جان سے مار دیا البتہ چند چیونٹے ہاتھی کے پاؤں پر چڑھ کر اس کے جسم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے انہوں نے اپنے ڈنک ہاتھی کے جسم میں گاڑ دیئے لیکن ہاتھی کی موٹی جلد پر ان کے ڈنک کا کوئی اثر نہ ہوا چیونٹے کافی عرصہ ہاتھی کے جسم سے چمٹے رہے لیکن آخر کار تھک ہار کر اس کے جسم سے اتر کر واپس اپنی بستی میں پہنچ گئے۔ وہ غیور چیونٹا جس نے ہاتھی کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا جنگ کے دوران سب سے آگے تھا اور وہی ہاتھی کے بھاری پاؤں کا سب سے پہلے شکار ہوا۔ چیونٹیوں اور ہاتھی کی پہلی جنگ میں بظاہر کامیابی ہاتھی ہی کے حصے میں آئی اس جنگ کے بعد چیونٹیوں کا پور اقبیلہ مل کر بیٹھا اور مزید صلاح و مشورے کرنے لگا۔ ہاتھی سے جنگ فضول ہے وہ ہم سب سے طاقتور ہے اس سے جنگ کا مطلب جانوں اور گھروں کی تباہی ہے " ایک بزرگ چیونٹے نے مشورہ دیا۔
ہم جنگ جاری رکھیں گے ہم ایک نہ ایک دن اسے شکست دے کر رہیں گے " ایک نوجوان چیونٹے نے نعرہ مستانہ لگایا۔
بدله بدله بدلہ " بہت سے چیونٹے پکار اٹھے۔ اور بالا آخر چیونٹیوں کی پنچایت نے فیصلہ کیا کہ آخری فتح تک
جنگ جاری رہے گی جب دوسری جنگ ہوئی تو چیونٹے اپنی پلاننگ کے مطابق ہاتھی کے چاروں پاؤں کے ذریعے ہاتھی کے جسم پر پھیل گئے اور اس کے جسم کا کمزور اور نرم حصہ تلاش کرنے لگے۔ اس دن بھی بہت سے چیونٹے ہلاک ہو گئے لیکن اس دن چیونٹے ہاتھی کے جسم کا کمزور اور نرم حصہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ ہوا یہ کہ چند چیونٹے ہاتھی کی سونڈ میں گھسنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ہاتھی کی سونڈ اندر سے نرم ہے انہوں نے سوچا کہ اگر سونڈ کے اندر ڈنک مارے جائیں تو ہاتھی کو شاید کوئی نقصان پہنچ سکے لیکن مصیبت یہ تھی کہ ہاتھی کی سونڈ کے اندر اتنی رطوبت تھی کہ سونڈ کے اندر پہنچنے والے بہت سے چیونٹے اس رطوبت میں پھنس کر مر گئے اور چند ایک چیونٹے ہی زندہ بیچ کر واپس اپنے قبیلے میں پہنچ سکے۔ اس دن کے بعد ہاتھی اور چیونٹوں کے درمیان کئی جنگیں ہوئیں ہاتھی آتا اور ان کے گھر تباہ کرتا اور سینکڑوں ہزاروں چیونٹیوں کو ہلاک کر دیتا چیونٹے اس کے جسم پر پہنچ کر اور اس کی سونڈ میں گھس کر اسے ڈنک مارتے لیکن ہاتھی ہر بار نقصان سے بچ جاتا۔ بہت سے چیونٹے بد دل بھی ہوتے لیکن اکثر چیونٹے بہادری سے اپنے موقف پر ڈٹے رہتے
اور بالآخر ایک دن ان کی قربانی رنگ لائی ۔
چند چیونٹے ہاتھی کی لمبی سونڈ کی مسافت طے کر کے ہاتھی کے دماغ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہاتھی کے سر کے اندرونی حصے میں پہنچ کر ڈنک مارنے شروع کر دیئے ۔ ہاتھی کے دماغ کا اندورونی حصہ انتہائی نرم و نازک اور حساس تھا چیونٹوں کے ڈنک سے اسے بے پناہ اذیت محسوس ہوئی اور وہ درد سے چیخنے چلانے لگا چیونٹوں نے جب ہاتھی کو اذیت میں مبتلا ہو کر چیختے دیکھا تو انہیں احساس ہوا کہ ان کا منصوبہ کامیاب ہو رہا ہے اور ان کا وار کاری ثابت ہونے لگا ہے انہوں نے ڈنک مارنے کی رفتار تیز کر دی۔
ہاتھی چیونٹوں کے پے درپے حملوں کی تاب نہ لاسکا اور زمین پر گر کر لوٹنے پوٹنے لگا اور کچھ دیر بعد درد کی تاب نہ لاکر مر گیا۔ ہاتھی کے مرتے ہی سینکڑوں ہزاروں چیونٹے چیونٹیاں ہاتھی کے مردہ جسم پر سوار ہو گئے وہ اپنی فتح پر بہت خوش تھے۔ وہ ایمان پر بہت خوش ہے۔ جنگل کے سارے جانوروں کو کو پتہ چل گیا کہ پہاڑ جیسے جسم والے ظالم اور گندے ہاتھی کو ننھی منی چیونٹیوں اور چیونٹوں نے مل کر شکست دے دی ہے اور اسے موت کے گھاٹ اتار کر سارے جنگل کو اس کے ظلم سے نجات دلادی ہے سب جانوروں نے چیونٹیوں اور چیونٹوں کو مبارک باد دی اور انہوں نے تسلیم کیا کہ مل جل کر کمزور سے کمزور جانور بھی بڑے بڑے اور طاقتور جانوروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment