انوکھی سالگرہ
محمد افتخار كھوكر
کامران کی سالگرہ کی تیاریاں زور شور سے جاری تھیں سالگرہ میں ابھی ایک ہفتہ باقی تھا لیکن کامران ابھی سے اپنے دوستوں میں دعوت نامے تقسیم کر رہا تھا اور ہر ایک سے اس تقریب میں لازما شریک ہونے کے وعدے لے رہا تھا۔
سالگرہ سے ایک دن پہلے کامران اپنے بہت ہی گہرے دوست را شد کو اس تقریب کے پیشگی انتظامات کے لئے بلانے اس کے گھر گیا تو راشد کی امی نے بتایا کہ وہ تو امدادی کیمپ میں گیا ہوا ہے۔
کون سا امدادی کیمپ تم کامران نے بے چینی سے پوچھا۔
کامران بیٹے ! ہمارے ملک کے شمالی علاقے میں جو تباہ کن زلزلہ جو آیا ہے اس سے ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ زلزلے نے ان کا سب کچھ تباہ و برباد کر دیا ہے اور اب وہ کھلے آسمان تلے بے یارومدد گار پڑے ہیں ان بے گھر لوگوں کی مدد کے لئے شہر میں قائم ہونے والے امدادی کیمپ میں لوگوں سے نقد رقوم کپڑے اور کھانے پینے کا سامان جمع کر کے متاثرین زلزلہ کو بھیجوایا جا رہا ہے۔
راشد تمہیں وہیں امدادی کیمپ میں مل جائے گا۔ راشد کی امی نے تفصیل سے بتایا۔ کامران اور راشد کی دوستی بڑی گہری تھی اس لئے وہ گھر جانے کی بجائے راشد کو ملنے امدادی کیمپ کی طرف چل دیا۔ کیمپ میں پہنچ کر کامران کو پتہ چلا کہ راشد متاثرین زلزلہ کیلئے سامان ٹرک میں لدوانے گیا ہوا ہے اور تھوڑی دیر میں آنے والا ہے۔ کامران نے سوچا کہ تھوڑی دیر انتظار کر لینے میں کیا ہرج ہے انتظار کے دوران اس کی نظر امدادی کیمپ پر لگے ہوئے بڑے سے بینر پر پڑی جس پر لکھا تھا " مسلمان وہ ہے جومصیبت کے وقت اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے کام آئے (حدیث نبوی ) " بینر پر لکھی ہوئی عبارت ہوا میں لہرا رہی تھی اور کامران کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ ہوا کی لہر اس کے سوئے ہوئے دل کو دکھی لوگوں کی مدد کرنے کے لئے بیدار کر رہی ہے۔ کامران نجانے کب تک بینر کی عبارت میں کھویا رہتا کہ اس کے کانوں سے ایک مانوس ہی آواز ٹکرائی۔
آہا! کامران بھیا آپ یہاں کیسے ؟ "
کامران نے چونک کر دیکھا تو سامنے راشد کھڑا تھا۔
وہ وہ میں آپ کو " کامران کچھ کہتے ہوئے رک سا گیا۔
بھئی کیا بات ہے؟ یہ آپ امجھے ہوئے انداز میں کیا کہہ رہے ہیں " راشد نے حیران ہو کر پوچھا۔ کامران نے اپنے حواس درست کرتے ہوئے اور خیالوں کی دنیا سے واپس آتے ہوئے جواب دیا- دراصل میں آپ کو لینے آیا تھا۔ کہاں جانے کے ارادے ہیں ؟ " راشد نے پوچھا
آپ کو پتہ ہی ہے کہ کل میری چودھویں سالگرہ ہے۔ اس کے انتظامات کی مجھے ابھی فکر لگی ہوئی ہے۔ آپ کو لینے آیا ہوں ، تاکہ ایک دن پہلے ہی سارے انتظامات مکمل کر لئے جائیں " ۔ کامران نے جواب دیا۔
مگر میں تو اس وقت بہت مصروف ہوں ، ہمارے ملک کا ایک حصہ زلزلے کی تباہ کاریوں کا شکار ہے ، ایسے میں سالگرہ اور خوشی و مسرت کی تقریبات منانا کچھ اچھا نہیں لگتا " ۔ راشد نے سنجیدگی سے کہا۔
امدادی کیمپ میں آکر احساس تو مجھے بھی ہو رہا ہے مگر کیا کیا جائے ، اب تو سارے ہی دوستوں کو اطلاع دی جا چکی ہے، اور انتظامات بھی مکمل ہونے والے ہیں ، ایسے میں سالگرہ کی تقریب ملتوی کی جاسکتی ہے ؟ " کامران نے تشویش بھرے انداز میں کہا۔
ایک تجویز ہے ، جس پر عمل کر کے سالگرہ کی تقریب ملتوی کئے بغیر کام چل سکتا ہے " راشد نے کہا۔ وہ کیا ؟ " کامران نے بے تابی سے پوچھا۔
راشد نے اس کے کان میں کچھ کہا اور کامران کا چہرہ کھل اٹھا۔ سالگرہ کی تقریب کا وقت جیسے جیسے قریب آرہا تھا، مہمانوں کی کو تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ تمام مہمان لان میں بچھی ہوئی کرسیوں بیٹھے تقریب کے انتظار میں خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ اچانک کامران کی آواز ایک جانب سے بلند ہوئی۔ مہمانان گرامی! سالگرہ کی تقریب کا وقت ہو گیا ہے۔لوگ ہال میں تشریف لے چلیں "۔ تمام مہمان تیزی سے ہال کی جانب لپکے۔ مگر یہ کیا؟
چہروں پر سوالیہ نشان تھا۔ ہال کے درمیان رکھی ہوئی بڑی سی میز سالگرہ کے کیک اور مہمانوں کے لائے ہوئے تحفوں کی بجائے بالکل خالی پڑی تھی۔ مہمانوں میں نہ ختم ہونے والی کھسر پھسر اور چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ کامران راشد کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے مسکراتا ہوا ہال میں داخل ہوا۔ تمام مہمانوں کو پریشانی کے ان لمحات میں کامران کی مسکراہٹ بہت بری لگی۔
یہ کیا مذاق ہے ؟ " طاہر نے اونچی آواز میں کہا۔ یہ کیا چکر چلا یا گیا ہے ؟؟ حامد نے گلا پھاڑ کر کہا۔ ہمیں سالگرہ کے نام پر بیوقوف بنایا گیا ہے " طارق نے جھنجھلا کر کہا۔ بھئی! ناراض اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، آپ کی ناراضگی ابھی دور کئے دیتا ہوں " کامران نے زیر لب مسکراتے ہوئے کہا۔
وہ کیسے ؟ " کئی آواز میں ایک ساتھ ابھریں۔ میرے پیارے دوستو! " کامران نے دھیمے انداز میں کہنا شروع کیا۔
آپ کو علم ہے کہ ہمارے پیارے ملک کے ایک حصے میں زلزلے نے تباہی پھیلا دی ہے ۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں ، سر چھپانے اور کھانے پینے کے لئے ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا ایسے میں سالگرہ اور خوشی کی دوسری تقریبات منانا اچھا نہیں لگتا۔ میں نے سوچاتھا کہ سالگرہ کی تقریب ملتوی کر دوں ، مگر ایک دن کے مختصر وقت ممکن نہیں تھا کہ تمام دوستوں کو اس تقریب کے التواء کی اطلاع کر سکوں ۔ اس لئے راشد کے مشورے پر میں نے فیصلہ کیا کہ سالگرہ کے پر تمام دوست جمع تو ضرور ہوں، مگر سالگرہ کے انتظامات پر اٹھنے
موقع والے تمام اخراجات کی رقم اور آپ دوستوں کے لائے ہوئے تحفوں کومتاثرین زلزلہ کے امدادی فنڈ میں جمع کرا دیا جائے " ۔
کامران کا یہ اعلان سنتے ہی مضطرب اور بے چین چہرے خوشی سے دمکنے لگے ، کامران کا یہ غیر متوقع مگر خوش کن فیصلہ سب کو بیحد پسند آیا۔
فرقان نے سارے دوستوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا ” ہم بھی آج سے اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کے لئے امدادی کیمپ میں کام کریں گے "۔
راشد اور کامران اپنے دوستوں کا یہ فیصلہ سن کر دل ہی دل میں مسکرانے لگے۔
No comments:
Post a Comment