مسلم بہنوں کیلئے دردِ دل سے ایک پیغام 😢
ایک حدیث ایسی ہے کہ جو مجھے ہمیشہ بہت ڈراتی ہے ۔ کہ جس میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا "
میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جو جنت میں نہیں جائیں گے۔
اور حتی کہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے
حالانکہ جنت کی خوشبو سالوں کے فاصلوں سے آتی ہے.
ان میں ایک گروہ ان عورتوں کا ہوگا۔ جو لباس پہن کر بھی ننگی ہوں گی جو مردوں کی طرف خود بھی مائل ہوتی ہیں۔ اور ان کو بھی اپنی طرف مائل کرنے والی ہیں ۔یہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکیں گی ۔
اس کا مطلب باریک لباس پہننا۔ یا اتنا ٹائٹ پہننا کہ جس سے جسم صاف واضح نظر آرہا ہے ٹانگیں، بازو، کمر سب نظر آرہا ہے ۔ یہ درست نہیں ہے ۔
قرآن کہتا ہے۔
ولا تبرجن تبرج الجاھلیة
جہالت والی زیب و زینت کر کے مت نکلو ۔
اور جہالت کے زمانے میں کیا ہوتا تھا۔ کہ عورتیں اپنے حسن و جمال کی نمائش آن کیا کرتی تھیں ۔سر پر تو حجاب لے لیتی تھیں لیکن اسے پیچھے ڈال لیتی تھیں جس سے ان کے سینے کھلے ہوتے تھے اور ان کا زیور حسن جو بھی زیب و زینت ہوتی تھی سب نظر آتی تھی.
سوچیے !
کہیں میری پہچان ان جہالت کے زمانے کی عورت کی تو نہی ہے؟
مجھے دیکھ کر کیا کوئی پہچان سکتا ہے کہ میں واقعی ہی ایک مسلمان عورت ہوں؟
کیا میں نے کبھی یہ سوچا کہ جب میں بن سنور کر گھر سے نکلتی ہوں تو جتنی نظریں میری طرف اٹھتی ہیں ان سب کا گناہ میرے اوپر ہے۔ میں کتنوں کے گناہ اٹھا رہی ہوں ؟
کیا میں اتنے گناہ اٹھا سکتی ہوں ؟
اکثر خواتین کہتی ہیں ہم تو اپنے لیے سجتے سنورتے ہیں ۔ہم کسی کو دکھانے کے لیے تو نہیں کرتے۔
تو یہ بتائیں !!وہ شوق بھی کیا شوق ہے جس کی خاطر مجھے اپنی جنت کھونی پڑ جائے۔کیا کوئی شوق بھی اس قابل ہے۔ اتنی طاقت ہے کہ میں اس کے لیے اپنی جنت ہار جاوں۔
بعض کہتی ہیں پھر لوگ کیا کہیں گے۔ تو کیا لوگوں کی خاطر ہم اپنی جنت کی بات کرتے ہیں اپنی جنت کا سودا کرتے ہیں۔
وہ کونسا ایسا شوق ہے ؟ وہ کونسا ایسا بیوٹی کمپیٹیشن ہے ؟یا لوگوں کی تعریفوں کا شوق ہے جو مجھے میری جنت میرے اللہ سے بھی زیادہ عزیز ہوگیا۔
شیطان نے ہمارے ماں باپ آدم اور حوا کا بھی سب سے پہلے لباس ہی اتروایا تھا۔ وہ آج اولاد آدم کے ساتھ یہی کر رہا ہے۔ ہم اس کی چال کو سمجھ نہیں پا رہے۔
کبھی دل میں خیال آ ہی جائےتو شیطان ہزار تاویلیں سجھاتا ہے کہ اچھا کر لینا ۔ ابھی جلدی کیا ہے۔ کونسا عمر گزری جا رہی ہے۔ یہ جھانسا اس قدر کارآمد ہوتا ہے کہ ہم سمجھ کر بھی نا سمجھ بن جاتے ہیں حالانکہ انسان جانتا ہے کہ ملک الموت ٹائم بتا کر نہی آئے گا ۔اور جب وہ آئے گا تو ٹائم دے گا نہیں۔ یہ نہ ہو کہ ہمارا حجاب لینے کا پہلا دن وہ ہو جو ہمارا دنیا سے جانے کا دن ہو۔ اس لیے کہ کفن میں حجاب بھی شامل ہوتا ہے۔ اس بات پر سوچیے گا ضرور۔ ۔!!
چینچ کے لیے صدیاں نہیں چاہیے ہوتیں بلکہ بعض دفعہ چند گھڑیوں کا غوروفکر بھی انسان کی زندگی کو بدل دیتا ہے✨

No comments:
Post a Comment