ہر سال 5 فروری کو پاکستان یوم یکجہتی کشمیر مناتا ہے تاکہ بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے عوام کے ساتھ غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا جا سکے۔ یہ دن کشمیریوں کی خود ارادیت کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے اور بھارتی حکومت کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ مسئلہ کشمیر صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی بحران ہے جو عالمی توجہ اور اقوام متحدہ (UN) کی قراردادوں کے مطابق حل کا تقاضا کرتا ہے۔
تاریخی پس منظر اور اقوام متحدہ کی قراردادیں
مسئلہ کشمیر کی جڑیں 1947 میں ہندوستان اور پاکستان کی آزادی سے جڑی ہوئی ہیں۔ بھارت کے ساتھ متنازع الحاق کے بعد، یہ علاقہ مسلسل کشیدگی کا شکار رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) نے اس تنازع کو تسلیم کرتے ہوئے قرارداد 47 (1948)، 51 (1948)، 80 (1950)، اور 91 (1951) منظور کیں، جن میں ریفرنڈم کے ذریعے کشمیری عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق دینے کی بات کی گئی۔ تاہم، بھارت نے ان قراردادوں کو مسلسل نظرانداز کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق خودارادیت سے انکار کیا۔
بھارتی حکومت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں
بین الاقوامی تشویش کے باوجود، بھارت نے کشمیر میں اپنے جبر میں شدت پیدا کی ہے۔ چند بڑی خلاف ورزیاں درج ذیل ہیں:
1. آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی
5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے یکطرفہ طور پر آرٹیکل 370 اور 35A ختم کر دیے، جس سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت چھین لی گئی۔ اس اقدام کو عالمی سطح پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور مقبوضہ علاقے میں آبادیاتی تبدیلی کی کوشش قرار دیا گیا۔
2. فوجی محاصرہ اور مواصلاتی بلیک آؤٹ
آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد، بھارت نے سخت کرفیو، مواصلاتی بلیک آؤٹ اور فوجی محاصرہ نافذ کر دیا۔ کئی ماہ تک کشمیری عوام دنیا سے کٹ کر رہ گئے، انہیں خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات کی قلت کا سامنا رہا۔ کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں، جس نے اس خطے کو دنیا کے سب سے زیادہ فوجی علاقوں میں تبدیل کر دیا ہے۔
3. ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیاں
بھارتی فوج پر ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور حراستی تشدد کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جنہیں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) جیسے کالے قوانین کے ذریعے تحفظ دیا گیا ہے۔ ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو بلاجواز گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جعلی مقابلوں میں قتل کیا گیا۔
4. پیلیٹ گنز کا استعمال اور شہریوں کی بینائی ضائع کرنا
بھارتی فوج نے مظاہرین کو روکنے کے لیے پیلیٹ گنز کا استعمال کیا، جس سے ہزاروں کشمیری شہری، بشمول بچے مستقل طور پر نابینا ہو گئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیموں نے اس عمل کی شدید مذمت کی ہے۔
5. صحافت اور سیاسی کارکنوں کا گلا گھونٹنا
کشمیری صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں کو مسلسل دھمکیاں، گرفتاریوں اور سنسر شپ کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بھارتی حکومت کی طرف سے کشمیری میڈیا کی آزادی پر سخت قدغن لگانے کا انکشاف ہوا ہے۔
پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کیسے کھڑا ہے؟
پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا مضبوط حمایتی رہا ہے اور بین الاقوامی فورمز پر اس مسئلے کو اجاگر کرتا رہا ہے، جن میں اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں شامل ہیں۔ پاکستان نے کشمیریوں کی حمایت کے لیے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
- سفارتی کوششیں: پاکستان عالمی سطح پر سفارتی مہم چلا کر بھارت پر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ریفرنڈم کروانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔
- اخلاقی اور سیاسی حمایت: پاکستان میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ریلیاں، تقاریر اور تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ کشمیری عوام پر بھارتی ظلم کو اجاگر کیا جا سکے۔
- انسانی امداد: پاکستان کشمیری مہاجرین اور بے گھر خاندانوں کو امداد فراہم کرتا ہے، جس میں خوراک، طبی سہولیات اور تعلیمی مواقع شامل ہیں۔
- عوامی بیداری مہم: ہر سال پاکستانی عوام بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلیاں، انسانی زنجیریں اور سوشل میڈیا مہمات چلاتے ہیں تاکہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔
- میڈیا مہم: پاکستانی میڈیا میں مسئلہ کشمیر کو نمایاں طور پر پیش کیا جاتا ہے تاکہ دنیا کو بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا جا سکے۔
عالمی ردعمل اور اقوام متحدہ کا کردار
بے شمار شواہد کے باوجود، عالمی طاقتیں اور اقوام متحدہ بھارت کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھانے میں ناکام رہی ہیں۔ اقوام متحدہ بارہا اس مسئلے کو تنازعہ زدہ علاقہ قرار دے چکی ہے اور مذاکرات کے ذریعے حل پر زور دیتی رہی ہے، لیکن بھارت کی مسلسل ہٹ دھرمی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی امن کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
نتیجہ: عالمی برادری کو عملی اقدام اٹھانے کی ضرورت
یوم یکجہتی کشمیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام ظلم، ناانصافی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے، بھارتی تسلط ختم ہو، اور اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ریفرنڈم کروایا جائے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، کشمیری عوام کی جدوجہد جاری رہے گی اور دنیا بھر میں انصاف اور آزادی کے متوالوں کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
اس دن، پاکستان اور دنیا بھر کے لوگ کشمیریوں کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں، ان کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں، اور بھارتی جبر سے آزادی کے لیے ان کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔
