ستارے
جونہی رات آئی وہ چمکے ستارے وہ ہیرے وہ موتی وہ ہیں ماہ پارے
خبر آمد صبح کی بھی ہیں دیتے سناتے ہیں راحت کا پیغام تارے
جوره رو کہیں راستہ اپنا کھو دے سیہ رات میں اس کے ہیں یہ سہارے
سمندر میں جیسے ہیں کچھ کشتیاں سی جو کچھ ہیں بھنور میں تو کچھ ہیں کنارے
مجھے بھی وہاں اے ستارو ! بلا لو جہاں پر ہیں فطرت کے رنگیں نظارے
(مختار النسا سیالکوٹ) 1951
No comments:
Post a Comment