خلیفہ کا روزینہ:
حضرت ابو بکر کپڑا بیچنے کا کاروبار کرتے تھے۔ خلیفہ منتخب ہو جانے کے اگلے دن بھی انہیں بازار میں دیکھا گیا وہ کپڑوں کا ایک گٹھا کاندھوں پر اٹھائے چلے جا رہے تھے۔ راستے میں انہیں حضرت عمر ملے اور ان سے پوچھنے لگے۔
آپ کہاں جا رہے ہیں۔“
"بازار جا رہا ہوں۔“
"کیوں؟
روزی کمانے کے لیے ۔“
تو کیا آپ خلیفہ المسلمین منتخب ہو جانے کے بعد بھی اپنا کاروبار جاری رکھیں گے؟“
بیشک ۔ ایک خلیفہ کو بھی کھانے کی ضرورت ہے اور اسے پہننے کے لیے بھی کچھ چاہیے.
لیکن اس سے آپ کے فرائض میں رکاوٹ پیش آسکتی ہے۔“ آئیے افسر خزاہ ابو عبیدہ آپ کے لیے کچھ انتظام کر دیگا۔“
دونوں ابو عبیدہ کے پاس پہنچے ۔ ابو عبیدہ نے کہا مہاجرین میں سے ہر شخص کو جو روزینہ ملتا ہے۔ وہ آپ کے لیے بھی مقرر کر دیا جائیگا۔ اس سے نہ کچھ کم ملے گا نہ زیادہ ایک جوڑا کپڑوں کا گرمیوں کے لیے اور ایک جوڑا سردیوں کے لیے ملے گا۔ جب یہ کپڑے پھٹ جائیں تو انہیں واپس کر کے اور لے سکتے ہیں۔
(ہسٹری اف اسلام-سیوطی)
قصص الاسلام

No comments:
Post a Comment