نجمہ (Short Story 1951)

 

نجمہ

اتنی دیر سے سکول آتے ہوئے شرم تو نہ آئی ، ذرا تھوڑی دیر اور آرام کر لیا ہوتا ، مت آؤ میری جماعت میں استانی جی نے غصہ سے لال پیلی ہوتے ہوئے کہا ۔

نجمہ سر جھکائے  کھڑی تھی ۔ جماعت کی لڑکیاں اسے دیکھ دیکھ کر چپکے چپکے کتابوں میں منہ چھپائے ہنس رہی تھیں استانی جی معاف کردیجئے ، میرا کوئی  قصور نہیں نجمہ نے سر جھکائے ہوئے استانی جی سے معافی مانگی ۔ اور وہ تو جیسے موقعہ تاک رہی تھیں کچھ اور کہنے کے لئے ۔ غصہ سے بھرتے ہوئے اُسے جھڑ کا "پھر میرا قصور ہو گا تمھارے دیر سے سکول آنے میں ، کھڑی بک بک کئے جاتی ہے ۔ نکلتی ہے یہاں سے یا نہیں“ اور اُستانی نے نجمہ کو چٹیا پکڑ کر کمرے سے  نکال دیا ۔

نجمہ کی آنکھیں چھلک اٹھیں ۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتے ہوئے وہاں سے چل دی ۔ شمیم ابھی تک اُس کا منہ چڑا رہی تھی ۔ اُس نے کوئی پرواہ نہ کی اسے اپنا گھر یاد آ رہا تھا ۔ ٹوٹی ہوئی جھونپڑی میں ٹوٹی پھوٹی چیزیں ایک چارپائی پر اس کی امی بخار میں مبتلا  لیٹی تھی ۔ نجمہ اپنے خیالات میں غلطان و پیچاں چلی جا رہی تھی کہ ٹھوکر لگی ۔

انوه ! یہ تو دیوار ہے ۔ گھر چلی جاؤں مگر امی نے تو کہا تھا کہ بیٹی میری فکر دو  نہ کر ۔ سکول کا وقت ہو گیا ہے۔ جابیٹی سکول چلی جا ، دنیا میں بغیر پڑھے لکھے گزارہ نہیں ہوتا ۔ تجھے علم حاصل کرنا چاہئے“۔ وہ کھڑی سوچنے لگی گھر گئی تو امی کو کتنا صدمہ ہو گا ۔ نہیں نہیں میں گھر نہیں جاؤں گی“ اور نجمہ دیوار کے ساتھ رکھے ہوئے بنچ پر بیٹھ گئی آنسو اب بھی ٹپک رہے تھے نجمہ نے سکول پر ایک نظر ڈالی ۔ سکول کی عمارت چپ چاپ سر اُٹھائے کھڑی تھی۔ جیسے کہہ رہی ہو آؤ تمھیں علم کی دولت ہے مالا مال کر دوں ۔ آؤ ، تمہیں تہذیب و شائستگی کا زیور پہناؤں مگر نجمہ نے خیالات میں غوطہ کھایا ۔ یہ عمارت سب کو بلاتی رہتی ہے ۔ یہ ایک داعی ہے ۔ اور دعوت کا انتظام کرنے والے انتظام اچھا نہیں کرتے اور نام بدنام کرتے ہیں ۔ اس داعی کا ۔ اُسے اپنی جماعت یاد آگئی اُستانی اور لڑکیاں۔ استانی باقی لڑکیاں کو کیوں نہیں جھڑکتی ؟ انہیں کیوں نہیں کمرے سے نکالتی ابھی پرسوں ہی تو شمیم اتنی دیر سے سکول آئی تھی اسے کیوں نہیں جھڑ کا ؟ اسے کیوں نہ کمرے سے باہر نکالا ؟ مگر اس نے تو اُستانی کو وہ خوب صورت سا دو پٹہ بھی تو دیا تھا ۔

استانی نے جب اُس سے پوچھا کہ شمیم آج تمہیں دیر کیوں ہو گئی تو کیسے منہ چڑا کر کہہ رہی تھی کہ اُستانی جی آپ کا دوپٹہ خرید نے میں دیر ہو گئی میں بازار چلی گئی تھی اور نجمہ کیوں دیر سے آئی تھی ۔ گھر میں صرف تین آدمی ہی تو ہیں۔ سعید - نجمہ اور اس کی امی ۔ سعید تو منہ اندھیرے ہی رکشا لے کر چلا جاتا ہے ۔ اور نجمہ سکول آ جاتی ہے اور امی گھر میں اکیلی ۔ دو چار دن ہوئے جب سے امی بیمار ہوئی ہے نجمہ کو بہت ہی صبح اُٹھنا پڑتا ہے ، کہیں سعید بغیر ناشتہ کئے نہ چلا جاے ۔ وہ ناشتہ تیار کرتی ہے ۔ نماز پڑھتی ہے ۔ خود تیار ہوتی ہے ۔ امی کی تیمار داری کرتی ہے ۔ پھر دو پہر کا کھانا تیار کرتی ہے ۔ آج امی کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔ سر میں شدت کا درد ہو رہا تھا ۔ نجمہ سر دباتی رہی امی بے ہوش ہو گئی تھی ۔ پھر نجمہ سکول کیسے آجاتی ؟ ۔ ہوش آنے پر امی نے اس سے کہا تھا " بیٹی میری فکر نہ کر ۔ سکول کا وقت ہو گیا ہے ۔ جا بیٹی سکول چلی جا۔ دنیا میں بغیر پڑھے لکھے گزارا نہیں ہوتا ۔ مجھے علم حاصل کرنا چاہئے“

اور وہ امی کا دل رکھنے کے لئے چار و نا چار سکول چلی آئی ۔ اور کار سکول میں اُستانی نے ڈانٹا ۔ ٹن ٹن ٹن - سکول کی گھنٹی بجھی نجمہ چونک اٹھی ۔ یہ تفریح کا وقت تھا ۔ لڑکیاں کمروں سے نکل رہی تھیں ۔ بھڑ کیلئے چمکدار کپڑے - لہراتے ہوئے دوپٹے ، مسکراتے ہوئے چہرے ، قہقہوں کی آوازیں ۔  کاش نجمہ بھی مسکرا سکتی ! نجمہ کے آنسو خشک ہو چکے تھے ۔ وہ ان چمک دار کپڑوں اور لہراتے ہوئے دوپٹوں کو دیکھ رہی تھی کہ اُس کی ہم جماعت لڑکیوں نے اُس کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا ۔ شمیم اُس کا منہ چڑاتی ہوئی پاس سے نکل گئی نجمہ سوچنے لگی یہ دنیا بھی کیسی ہے ۔ انسان انسان کے درپے ہو رہا ہے ۔ امیر غریبوں کو کھائے جا رہے ہیں ۔ انسان انسان سے جانور کا کام لیتا ہے ۔ اُسے اپنا بھائی یاد کی آگیا۔ سعید رکشا چلاتا ہے ۔ اُسے اور کوئی کام نہ ملا تھا ۔ جو کام بھی شروع کرتا ناکامی ہوتی۔ امی کا زیور تو بک چکا تھا۔ نجمہ کی بالیاں باقی تھیں ۔ کسی نے اُسے نصیحت کی کہ میاں رکشا چلانا شروع کر دو ۔ سعید کتنا پریشان ہوا تھا ۔ رکشا چلائے کیسے ؟۔ اُس کے پاس تو کوئی روپیہ نہیں وہ رکشا کیسے خریدے ۔ پھر رکشا چلانا بھی کتنا انسانیت سے گرا ہوا کام ہے ۔ انسان کو جانور بننا پڑتا ہے ۔ جیسے گھوڑا گاڑی کو کھینچتا ہے ۔ جیسے گدھا گاڑی کھینچتا ہے ۔  کیا اُسے روزی کمانے کے لئے جانور بننا پڑے گا گھوڑا بننا پڑے گا ؟۔ اور پھر مجبورا اسے گھوڑا بنناہی پڑا جب نجمہ نے اُسے اپنی بالیاں دے دیں ! اور اُس دن سے وہ رکشا چلانے لگا۔ نجمہ یوں ہی سوچتی چلی جارہی تھی ۔ اسے گرد و پیش کی کوئی خبر نہ تھی۔ اُسے کچھ پتہ نہ چلا کہ کتنا وقت گزر چکا ہے ہوا زور سے چلنے لگی مٹی اڑ نے لگی ٹن ٹن ٹن ٹن زور سے گھنٹی بجی اور چھٹی ہو گئی ۔ لڑکیاں کمروں سے نکلنے لگیں ۔ بستے سنبھالے ۔ دوپٹے ٹھیک کرتی ہوتی ۔ نجمہ بھی سنبھلی کتا بیں صاف کیں اور دل میں سوچتی ہوئی گھر کے رستے پہ ہوئی، یہ کہ دنیا کیوں بے شرم

ہو رہی ہے ۔ شرم وحیا اس جہان سے بھاگی چلی جا  رہی ہے ۔ کسی کو بھی شرم نہیں آتی ۔ شمیم کو منہ چڑاتے شرم نہیں آتی ۔ اُستانی کو گالیاں دیتے شرم نہیں آتی ۔ مجھے گالیاں سنتے شرم نہیں آتی ۔ سعید کو جانور بنتے ہوئے شرم نہیں۔  ہاے رے کسی کو بھی شرم  نہ آئی ۔

(سارہ سلطانہ ساره )


خدا کی گواهی- (حمید الدین کمال 1951)



 خدا کی گواهی


اباجی کے  بیان کے مطابق تقسیم ہندوستان اور پاکستان سے تین سال پیشتر

کا واقعہ ہے ۔امرت سر اپنے مکان میں ایک روز اباجی اور بڑے ابا ( دادا صاحب) شام  کے وقت مکان کے نیچے کی منزل میں  بیٹھک میں بیٹھے کچھ کام کر رہے تھے۔

رات کے گیارہ بجے ہوں گے ۔ سردی کا موسم تھا کہ بڑے آبا کے ایک دوست آئے ۔ اور اِدھر اُدھر کی گفتگو کے بعد بڑے ابا سے چھ سو روپے بطور قرض طلب کئے ۔ بڑے ابا نے کہا کہ بھئی اس وقت پانسو روپے تو میرے پاس موجود ہیں اور باقی سوروپے کی رقم نہ میرے پاس ہے اور نہ گھر میں ہی موجود ہے ۔ اگر اس رقم  سے آپ کا کام چل سکتا ہے تو لے جاؤ۔ مہمان اور بڑے ابا کی گفتگو سے معلوم ہوتا تھا کہ نو دارد بڑے آبا کے کوئ بے تكلف دوست تھے ۔

نو وارد نے کچھ سکوت کے بعد پانسو روپے ہی غنیمت سمجھ کرلے لینا مناسب سمجھا اور یادداشت کے طور پر کچھ تحریر کرنے کو کہا ۔ بڑے ابا نے دوست کو کہا کہ کچھ تحریر لینے یا دینے کی ضرورت نہیں ۔ ہاں باہر نزدیک ہی میرا ایک گواہ موجود ہے ۔ اس کے سامنے کھڑے ہو کر یہ ہے رقم لے لو ۔ اور جب تمہیں توفیق ہو۔ آکر اسی کے سامنے واپس کر دینا۔ ہاں یہ میرا بڑا لڑکا بھی پاس  ہے ۔ یہ بھی تمھارے رقم لینے کے ل وقت موجود ہو گا۔ دوست کو معلوم نہ تھا کہ با ہر کون ہے ۔ ہمارا مکان امرت سر میں خالصہ کالج روڈ پر سڑک کے کنارے واقع تھا ۔ مکان کے ساتھ ہی مسجد تھی ۔ بڑے آبا۔ میرے آیا اور بڑے ابا کا دوست تینون مکان سے باہر نکلے اور بڑے  سب کو مسجد میں لے گئے ۔ وہاں بڑے آبا نے دوست سے کہا ۔ کہ لو بھئی یہ خدا کا گھر ہے ۔ اور مجھے اتنی ہی گواہی کی ضرورت ہے کہ تم خدا کے گھر میں خدا کے روبرو مجھ سے پانسو روپے لے رہے ہو۔ جب تمھارے پاس ہوں دے دینا اور اگر آج کے بعد میں مرجاؤں ۔ تو میرے اس بڑے لڑکے کو یہ رقم لوٹا دینا ۔ لیکن میری زندگی کے بعد بھی میرے لڑکے کو تم سے مطالبہ کرنے کا حق نہیں ۔ ہاں اگر اپنی مرضی سے تم واپس کرو تو یہ بہتر حقدار ہے اور یہ کہہ کر پانسو روپے اس آدمی کو دے دئیے اور وہ لے کر چلا گیا ۔ اپنے مکان میں واپس آکر ابا جی نے بڑے آبا سے پوچھا کہ یہ آپ کے دوست کون ہیں اور کہاں رہتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا ۔ کہ یہ میرے ایک دلی دوست ہیں ۔ اور امرت سر میں ہی رہتے ہیں ۔ صابن کا کاروبار کرتے ہیں اس سے زیادہ بتانے کی ضرورت نہیں ۔ اس واقعے کو دو سال گزر گئے بڑے ابا رحلت فرما گئے ۔ اس واقعہ کی یاد اباجی کے دل سے یا گھر میں اور جن کو معلوم تھا سب کے دل سے محو ہو گئی ۔ ایک سال اور گزر گیا اور امرتسر میں قیامت کے آثار پیدا ہو گئے قتل و غارت ۔ لوٹ مار ۔ آتشزد کی ۔ دوڑ بھاگ .مسلمان جو ہندو محلوں میں آباد تھے مکان خالی کر کے امرت سر کے مسلمان محلوں میں چلے گئے ۔ اور اسی سلسلے میں ہم اپنے امر تسر کے مکان سے جانیں بچا کر پہلے اپنے آبائی گاؤں اور بعد میں لاہور بغیر کسی نقدی اور سامان کے آگئے ۔ لاہور میں اگرچہ ہمارے رشتہ دار احباب موجود تھے ۔ لیکن اس مشکل وقت میں خوراک اور نقدی کی صورت میں امداد دینا مشکل تھا ۔ ابا جی بہت پریشان تھے کہ کس کے سامنے دستِ

سوال دراز کریں ۔ چچا صاحب جو ملٹری آرڈینینس ڈپو میں لفٹننٹ تھے اور ہمارا خیال تھا کہ لاہور پہنچتے ہی ہماری تمام مشکلیں حل ہو جائیں گی ۔ وہ بونڈری فورس میں منتقل ہو کر کسی اور مقام پر تبدیل ہو چکے تھے اور امرت سر اور آبائی گاؤں میں ہماری تلاش کر چکے تھے اور کسی جگہ ہمارا پتہ نہ پا کر بہت پریشان تھے ۔ ادھر ہماری حالت ناگفتہ بہ تھی۔

ایک دن جب کہ ہمارے گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا ۔ اباجی کسی دیرینہ دوست کے پاس کچھ کام حاصل کرنے کو گئے ۔ ابا جی کی غیر حاضری میں ایک آدمی نے ہمارا دروازہ کھٹکھٹایا اور آیا جی کا نام لے کر آواز دی ۔ اماں جی نے مجھے باہر بھیجا کہ پتہ کروں کون صاحب ہیں ۔ دروازہ میں پاکر نو دارد نے مجھے پوچھا تمھارے ابا کہاں ہیں ؟ میں نے کہا ابا جی بغیر پتہ بتائے کہیں باہر گئے ہوئے ہیں شام تک آجائیں گے۔ اس نے مجھ سے خیریت پوچھی ۔ کہ کنبے کے سب افراد زندہ اور سلامت آگئے ہو ؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا ۔ اس نے کہا کہ جب تمھارے آبا آئیں ان کو کہنا کہ کل دس بجے سے پہلے گھر سے باہر نہ جائیں ۔ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں ۔

رات کو  آبا آئے تو بہت پریشان تھے ۔ میں نے اسے اس آدمی کے آنے اور کل دس بجے تک پھر آنے کا پیغام سنایا ۔ ابا جی سرسری طور پرسن کر پریشان حالت میں خاموش رہے ۔ اگلے دن صبح ہی وہ آدمی آیا ۔ ابا جی نے اُن کو نہ پہچانا ۔ مکان کی بیٹھک میں جب ان کو بٹھایا تو اس نے معمولی خیریت پوچھنے کے بعد کہا کہ میں تمھاری تلاش میں امرت سر سے تمھارے گاؤں اور گاؤں سے یہاں آیا ہوں ۔ تمھاری ایک امانت میرے پاس ہے جو آج سے تین سال پیشتر تمھارے سامنے بڑے ملک صاحب سے بطور قرض لی تھی ۔ اگرچہ ملک صاحب آج زندہ نہیں لیکن خدا گواہ ہے کہ میں ملک صاحب کی امانت حسب وعدہ آج واپس کر رہا ہوں ۔ یہ کہہ کر اس نے پانچ نوٹ سوسو روپے کے اباجی کے ہاتھ میں دے دئے اور سلام علیکم کر کے چلا گیا ۔ اور ابا جی امداد غیبی کا شکریہ ادا کر کے آنکھوں میں آنسو بھر لائے ۔


(حمید الدین کمال 1951)

دعا اے خدائے مالک لوح و قلم ہم پہ بھی ہو جائے اک نظر کرم ((صبا نقوی 1951)

       دعا 

اے خدائے مالک لوح و قلم

                 ہم پہ بھی ہو جائے اک نظر کرم

 دست قدرت سے ترے با ہر ہے کیا

                     تو جو چاہے کر دکھائے اے خدا

تو نے سورج کو تمازت بخش دی

                 آسمانوں کو یہ رفعت بخش دی 

 چاند کو یہ چاندنی کیا خوب دی

                مینہ سے مٹی کی مٹانی تشنگی

تو جہاں جائیں وہاں موجود ہے

             ساری دنیا کا تو ہی معبود ہے

تیری ہی اک ذات ہے والا صفات

             سن دعا میری بھی رب کائنات

قوم کی خدمت کروں توفیق دے

             ملک پر مرنا سکھا دے تو مجھے

قوم کا خادم کہیں سارے مجھے

             دیس کے ذرات ہوں  پیارے مجھے

قوم کی خدمت ہی میرا کام ہو

             اور اسی خدمت سے پیدا نام ہو

 سب کو سیدھی راہ پر میں ڈال دوں

             بے پروں کو پھر سے پر اور بال دوں

اے صبا سارا لٹا دوں مال وزر 

            اور خدا ہو جاؤں ملک و  قوم پر

(صبا نقوی)

عالم کی تقریر (نظم) ( ایس ایم مشرور کراچی 1951)

اپریل ۱۹۵۱ء

عالم کی تقریر

بہت دور بستی سے دریا کے پار            جہاں لوگ رہتے تھے جاہل گنوار

   گیا سیر کو ایک عالم وہاں                        نہ تعلیم کا اُس نے دیکھا نشاں

 نہ تھا اُس کو ہرگز یہ وہم و گماں              کہ ہیں سب کے سب لوگ جاہل یہاں

 ہوا دکھ اُسے کیونکہ انسان تھا                 وہ علم و ادب کا ثنا خوان تھا

 یہ سوچا کہ آیا تو ہوں میں یہاں                 کروں علم کے کچھ فوائد بیاں

 بلا کر یہ لوگوں کو اُس نے کہا                      بھٹکتے ہو کیوں اس طرح جا بجا

 یہ مانا کہ مفلس ہو، مزدور ہو                 حقیقت میں راحت سے تم دور ہو       

 ذرا دیکھودریا کو بہتا ہوا                        وہ بہتا ہے تم سے یہ کہتا ہوا

 اٹل ہوں اِرادے تو مشکل نہیں          مُسافر کو کچھ دور منزل نہیں

  بڑے لوگ دنیا میں    گزے ہیں جو         سدا پڑھنے لکھنے میں کوشاں تھے وہ

 یہ تقریر عالم کی جاری رہی                               فضا میں خموشی سی طاری رہی 

 جہالت کا اپنی اُنہیں رنج تھا                    وہاں ایک بوڑھے نے اٹھ کر کہا

 بلائیں گے بستی سے اُستاد ہم                 پڑھانے کی رکھیں گے بنیاد ہم

 وہاں الغرض مدرسہ کھل گیا                     ہر اک نوجواں پڑھنے لکھنے لگا

 کھلے جابجا شادمانی کے باغ                            نظر آئے ہر سمت روشن چراغ

 تھے غافل کبھی آج بیدار ہیں                     خرد مند ہیں اور سمجھ دار ہیں


ہے بے کار مسرور وہ زندگی

 نہ ہو جستجو جس میں تعلیم کی!

 ( ایس ایم مشرور کراچی)

Love yourself. اپنے آپ سے محبت کریں. قرب الٰہی کے راستے

Man gives the world the time he invests in the works of Allah 

Even if a person is exhausted in every way, the world still does not end, does not become satisfied

On the contrary, in the cycle of winding up this world, man himself goes on disintegrating and loses his identity

Carry the burden of the world, it does not decrease

Fear of the world only keeps us engaged in its activities

But the surprising thing is that his fear increases instead of decreasing

All this is because we changed our priorities 

Changing priorities lead to changing goals

When the goals change, our energies are diverted

If we sacrifice our lives in the way of Allah, we will get success and peace in this world and the hereafter

 A fear of Allah in the Hereafter frees us from all kinds of fear

There is no fear for them and they do not grieve:

There will be no fear for the guardians of Allah, nor will they be sad

If you are also tired, there is nothing at hand, no preparation for the hereafter, no peace in this world, then start trying to change your priorities right now. 

Everything and every human being obeys the commands of Allah 

Put every matter above every fear

This will happen gradually 

May Allah grant you His love and closeness more than before, Ameen.

#lifequotes #lifelessons #inspiration


انسان اللہ کے کاموں میں لگانے والا وقت دنیا کو دیتا ہے 

یہاں تک کہ انسان ہر طرح سے  تھک جاتا ہے دنیا پھر بھی سمیٹی نہیں جاتی راضی نہیں ہوتی

بلکہ اس دنیا کو سمیٹنے کے چکر مین انسان خود بکھرتا چلا جاتا ہے اپنی شناخت کھو بیٹھتا ہے

دنیا کا بوجھ اٹھاتے جاو یہ کم نہیں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے

دنیا کا خوف ہمیں بس اسی کے کاموں میں مشغول رکھتا ہے

لیکن حیرت کی بات یہ ہے کی اسکا خوف کم ہونے کی بجائے بڑھتا چلا جاتا ہے

یہ سب اس لیے ہے کہ ہم نے اپنی ترجیحات بدل لیں 

ترجیحات بدلنے سے مقاصد بدل جاتے ہیں

مقاصد بدل جائیں تو ہماری توانائیاں کسی اور سمت میں لگنے لگتی ہیں

اگر ہم اللہ کے راستے میں  اپنی جان کھپا دیں تو دنیا و آخرت کی کامیابی اور سکون حاصل ہو

 آخرت کا ایک اللہ کا خوف ہمیں ہر قسم کے خوف سے آزاد کر دیتا ہے

لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ:

اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

اگر آپ بھی تھک چکی ہیں ہاتھ کچھ نہیں ہے نا آخرت کی تیاری نا دنیا میں سکون تو ابھی سے اپنی ترجیحات بدلنے کی کوشش میں لگ جائیں 

 اللہ کے احکامات  کو ہر چیز ہر انسان 

ہر معاملے ہر خوف سے اوپر رکھیں

یہ کام آہستہ آہستہ ہوگا 

اللہ آپکو پہلے سے بھی زیادہ اپنا قرب اپنی محبت عطا کرے آمین




مجھے حیرت ہوتی ہے کیسے نا محرم کی محبت میں مبتلا ہو کر لڑکیاں ﷲ کو آسانی سے ناراض کر دیتی ہیں. 

 پہلے تو نمازیں بے روح ہوتی ہیں اس کے بعد نمازیں چھوٹنے لگتی ہیں اس ریلشیشن میں شیطان اتنی اٹریکشن پیدا کر دیتا ہے. 

 پھر دور جانے کے خوف سے ہی لڑکی کانپنے لگتی ہے. 

 پھر پہلے تو لڑکا بہت نارمل انداز میں بات کرتا ہے دین کی باتیں کرنا اچھی اچھی باتیں بتانا. 

لڑکی سمجھتی ہے یہ تو بہت نیک ہے اور اس کے پیچھے کھنچی چلی جاتی ہے. 

اپنے انجام سے بے خبر کیا بتاٶں لڑکیوں حرام ریلیشن کی تباہ کاریاں:

یہ انسانی روپ میں چھپے بھیڑیے تمہارے جسم کے منتظر ہیں ہمیشہ ایک بات یاد رکھیں مومن مرد کبھی بات نہیں کرتا. 

اس لیے پیاری لڑکیوں حرام ریلیشن سے بچیں مجھے تو سمجھ نہیں آتی ہم دنیا کی حقیر چیز سے متاثر ہو کر اس کے پیچھے بھانگنے لگتے ہیں مجھے کسی کی محبت نہیں چاہیے کسی کی نہیں میں تو بس اپنے رب کی محبت کی متلاشی ہوں. 

`قرب الٰہی کے  راستے`


میں کسی بھی غیر مرد کی محتاج نہیں!!

 میں کسی بھی غیر مرد کی محتاج نہیں!! 

میرا نام لاریب ہے. کالج میں ایک لڑکے نے مجھ سے اظہار محبت کیا. اسے میں نے بہت سمجھایا لیکن اُسے ذرا اثر نہیں ہوا. وہ کٹر ٹھرکی تھا یا پھر اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ کوشش جاری رکھو، ایک نہ ایک دن مان ہی جائے گی. میں اُس کی باتیں سن کر ہنستی تھی، وہ دل میں خوش ہوتا تھا کہ ہنسی تو پھنسی، پر اُسے یہ کہاں معلوم تھا میری ہنسی کا مطلب ہے کہ ہنسوں تو کبھی نہ پھنسوں.

آج پھر وہ چلا آیا تھا.

اچھا تو تمھارا یہ دعوی ہے کہ تم محبت کرتے ہو مجھ سے، کیا ہوتی ہے محبت؟ کچھ معلوم ہے اس کے بارے میں. جس سے محبت ہو اس کے حقوق کا علم ہے تمھیں. یہ فرائض سرانجام دینے کے قابل ہو تم.

اُس کے چہرے پے حیرانیوں کے سائے لہرانے لگے. اُسے ان گہری باتوں کا علم ہی کہاں تھا. وہ تو بس فلموں، ڈراموں کی آغوش میں جوان ہو کر ہزاروں نوجوانوں کی طرح اپنی فطری ضروریات کے ہاتھوں مجبور ہو کر محبت کا نام اپنی روح میں سمو چکا تھا.

سچ میں جب سے تمھیں دیکھا ہے، میرا چین و سکون لٹ گیا ہے. ہر جگہ تم ہی دکھائی دیتی ہو ،میں سچی محبت کرتا ہوں، پلیز مان جاؤ نا.

کیا مان جاؤں؟ میں نے بے نیازی سے پوچھا.

تم بھی محبت کر لو مجھ سے، بہت خوش رکھوں گا تمھیں، ہر بات مانوں گا.

اچھا میری ہر بات مانو گے.

ہاں! ہر بات مانوں گا، تم نہیں جانتی تمھاری یہ عام سی آنکھیں میرے لیے کتنی خاص ہیں.

لوگوں کو تو محبوبہ کی آنکھیں جھیل جیسی گہری لگتی ہیں، تم انھیں عام کہہ رہے ہو.

آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ بناوٹی باتیں آپ کو پسند نہیں، یہ سب جھوٹی تعریفیں ہوتی ہیں، اس لیے سچ بتا رہا ہوں کہ چاہے یہ آنکھیں عام سی ہیں پر میرے لیے تو خاص ہیں.

خاص کیوں ہیں؟ وجہ بتاؤ.

کیونکہ ان سے ذہانت ٹپکتی ہے، جب آپ کے لب پھول برساتے ہیں تب یہ بھی پورا ساتھ دیتی ہیں، ایسا لگتا جیسے یہ بھی بول رہی ہوں..

اوہ! تو محبت کی پہلی سیڑھی چڑھ ہی گئے ہو تم.

اچھا بتاؤ، میری ہر بات مانو گے؟

ہاں ہر بات..

تو پھر میری محبت اپنے دل سے نکال دو، اگر تم سچی محبت کرتے ہو مجھ سے تو میری یہ بات بھی مانو گے.

اُس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا تھا جسے اندر ہی اندر جذب کرنے کی وہ ناکام کوشش کر رہا تھا.

ٹھیک ہے آئندہ آپ نہیں دیکھو گی مجھے..

یہ کہہ کر وہ خاموشی سے چلا گیا.

اس لیےکہ وہ مجھے یقین دلانا چاہتا تھا کہ واقعی مجھ سے سچی محبت کرتا ہے.

میرے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی. میں نے دل میں سوچا کہ تم مجھے بیوقوف نہیں بنا سکتے.

کافی دن گزر گئے، اُس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی، کوئی کال نہ میسیج.

پھر ایک دن وہ خود ہی میرے پاس چلا آیا.

میں نے تمہاری محبت اپنے دل سے نکال دی ہے. اب تم میرے لیے ایک عام عورت ہو.

لفظ عورت سن کر میں کھلکھلا کر ہنس پڑی..

پتہ میری محبت کیوں نکلی ہے تمہارے دل سے؟ کیونکہ یہ محبت کبھی تھی ہی نہیں، محبت کبھی دل سے نہیں نکلتی بشرطیکہ سچی ہو. محبوب کے ساتھ حقیقی پل تو دور کی بات، کبھی خیالوں میں بھی اس کا ہاتھ تک پکڑنا نصیب نہ ہو، اور نہ ہی وہ شدتوں کو جانتا ہو، پھر بھی دل سے محبت نہیں نکلتی.

وہ شرمندہ سا ہوا.

تمھیں کیا پتہ میں کتنا رویا ہوں؟ کتنی راتیں جاگ کر گزاری ہیں؟ کتنا سوچا ہے؟ پھر میں نے خود کو سمجھایا کہ میں تمہاری بات مانوں گا، فریادی بن کر اب نہیں آؤں گا، اس لیے کہہ رہا ہوں محبت ختم ہو گئی. شادی تو ویسے بھی تمہارے ساتھ نہیں ہو سکتی.

کیوں مجھے خارش ہے؟ میری رگ مزاح پھڑک اٹھی.

پھر ہنستے ہوئے اس نے بتایا کہ ہمارے خاندان والے برادری سے باہر شادی نہیں کرتے.

تو کیا تمھارے خاندان والے برادری سے باہر محبت کر لیتے ہیں؟

وہ چپ رہا، کیا جواب دیتا.

خیر میں تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں، تم بہت اچھی لڑکی ہو، اگر تم میری محبت میں گرفتار ہو جاتیں تو میری نظروں میں اپنی اہمیت کھو دیتیں، اور ہم لڑکے واقعی ایسی لڑکیوں سے محبت تو خوب کرتے ہیں پر شادی نہیں.

اب کے حیران ہونے کی باری میری تھی. میری پلاننگ کامیاب ہوئی تھی. وہ سچ مان رہا تھا.

پر میں اس کی دوسری چال بھی سمجھ گئی. مرد کو بسس سیٹیسفیکشن چاہیے ہوتی ہے، چاہے ذہنی ہو یا جسمانی، جب اُسے یقین ہو گیا کہ میں واقعی ہاتھ آنے والی نہیں تو اُس نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا. وہ میرے ساتھ باتوں سے ذہنی تسکین چاہتا تھا، وقت اچھا گزارنا چاہتا تھا.

اچھا دوستی کر کے کیا کریں گے؟ اچھے دوست کیسے ہوتے ہیں؟ میں نے اس سے پوچھا.

ہم اپنی ہر بات ایک دوسرے سے شیئر کیا کریں گے، میں آپ کو گفٹ دیا کروں گا، اکھٹے شاپنگ پر جائیں گے، خوب گھومیں پھریں گے، کھابے اڑائیں گے، دکھ سکھ کے ساتھی، بالکل اچھے دوست بنیں گے ہمیشہ ساتھ رہنے والے.

محبت کی جگہ اب دوستی کا لفظ آ گیا تھا مگر ترجیحات اور مقاصد و معاملات وہی تھے.

ایک لڑکا لڑکی کبھی دوست نہیں ہو سکتے، ہاں کلاس فیلو ہو سکتے ہیں، جب سٹڈی ختم ہوئی رابطہ ختم. لیکن دوستی تو وہ ہوتی جو مستقل رہے.

محبت تم نہیں کرتی، دوستی پر تمھیں اعتراض ہے. اچھا منہ بولی بہن بن جاؤ. میں اتنی اچھی لڑکی کھونا نہیں چاہتا.

میں بھی اتنی اچھی لڑکی گنوانا نہیں چاہتی. میں نے دل میں سوچا.

یہ اس کا آخری حربہ تھا محبت اور دوستی میں دال نہ گلی تو منہ بولی بہن..

اچھا بھائی بہن بن کر کیا ہوگا؟ میں نے پوچھا

دونوں ساتھ وقت گزارا کریں گے، اپنی ہر بات بتایا کریں گے، صبح صبح اکٹھے سیر کو جایا کریں گے، جاگنگ کریں گے، ٹینیس کھیلیں گے، بہت خوش رہیں گے دونوں. یہ زندگی بورننگ نہیں لگتی تمھیں جو گزار رہی ہو، تھوڑا سا بدلو تم خود کو. دیکھنا کتنی خوشیاں ملتی ہیں، سچی بھائی بہن والا رشتہ ہوگا، کوئی نقصان نہیں…

اور اس دوران تم بہن لفظ کا سہارا لے کر مجھ سے اپنی ذہنی تسکین حاصل کرتے رہو، نظروں سے ہی میرے چہرے کو چھوتے رہو، ٹینس کھیلتے ہوئے میرے بدن کے اتار چڑھاؤ کو للچائی نگاہوں سے دیکھتے رہو، تمھارا وقت رنگین ہو جائے گا.

میں خاموش نظروں سے کہہ رہی تھی، وہ کن اکھیوں سے دیکھتا ہوا جواب کا منتظر تھا..

سوری میری خوشیاں، کھابے، سیر، جاگنگ، زندگی کے رنگ، ٹویسٹ، قہقہے، دکھ سکھ کسی غیر مرد کے محتاج نہیں.

میں اپنے پاپا کے ساتھ سیر کو جاتی ہوں. باپ کی شفقت بھری گفتگو بہت لطف دیتی ہے. میری ماں میری سب سے اچھی دوست ہے، میرے دکھ سکھ کی ساتھی ہے. میری سکھیاں کھابے اُڑانے میں لاجواب ہیں، اُن کے ساتھ میرا وقت بہت اچھا گزرتا ہے. میرے ٹیچرز میرے رہنما ہیں. اپنے بھائی کے ساتھ میں گھنٹوں باتیں کرتی ہوں، معصوم شرارتیں دو منٹ میں ناراض دو منٹ میں راضی، ایک دوسرے کے بنا ذرا وقت نہیں گزرتا، اس کے پیچھے بائیک پر بیٹھے ہوئے میں آزاد فیل کرتی ہوں، اس کے ساتھ شاپنگ کا جواب نہیں. میں بہت خوش ہوں. ایک نیا رشتہ بنا کر میں ان سب رشتوں کی مٹھاس نہیں کھونا چاہتی..

پتہ نہیں لڑکیوں کی حسین زندگی غیر مردوں سے ہی کیوں جڑی ہوتی ہے؟ خوبصورت خوابوں کے چکر میں عمر بھر کے لیے آنکھیں زخمی کروا لیتی ہیں.

اتنا کہہ کر میں چلی آئی. اس کا ری ایکشن کیسا تھا؟ میں نے دیکھا نہیں، لیکن اسے ایک سبق ضرور مل گیا تھا.

میں نے گھر آ کر سجدہ شکر ادا کیا اور آنکھ اشکبار ہو گئی. میرے اللہ تو مجھےایسے ہی ثابت قدم رکھنا، اس عہد کی پیداوار ہو کر بھی میرے قدم ذرا نہ ڈگمگائیں.

#منقول

Duain

 اے میرے رب مجھے دین کی صحیح سمجھ عطاء فرما۔۔۔ سیدھا راستہ دیکھا وہ راستہ جو تیری رضا کے حصول کا ہو  ۔۔۔۔ اپنی رضا میں زندگی اور موت عطاء فر...