خدا کی گواهی- (حمید الدین کمال 1951)



 خدا کی گواهی


اباجی کے  بیان کے مطابق تقسیم ہندوستان اور پاکستان سے تین سال پیشتر

کا واقعہ ہے ۔امرت سر اپنے مکان میں ایک روز اباجی اور بڑے ابا ( دادا صاحب) شام  کے وقت مکان کے نیچے کی منزل میں  بیٹھک میں بیٹھے کچھ کام کر رہے تھے۔

رات کے گیارہ بجے ہوں گے ۔ سردی کا موسم تھا کہ بڑے آبا کے ایک دوست آئے ۔ اور اِدھر اُدھر کی گفتگو کے بعد بڑے ابا سے چھ سو روپے بطور قرض طلب کئے ۔ بڑے ابا نے کہا کہ بھئی اس وقت پانسو روپے تو میرے پاس موجود ہیں اور باقی سوروپے کی رقم نہ میرے پاس ہے اور نہ گھر میں ہی موجود ہے ۔ اگر اس رقم  سے آپ کا کام چل سکتا ہے تو لے جاؤ۔ مہمان اور بڑے ابا کی گفتگو سے معلوم ہوتا تھا کہ نو دارد بڑے آبا کے کوئ بے تكلف دوست تھے ۔

نو وارد نے کچھ سکوت کے بعد پانسو روپے ہی غنیمت سمجھ کرلے لینا مناسب سمجھا اور یادداشت کے طور پر کچھ تحریر کرنے کو کہا ۔ بڑے ابا نے دوست کو کہا کہ کچھ تحریر لینے یا دینے کی ضرورت نہیں ۔ ہاں باہر نزدیک ہی میرا ایک گواہ موجود ہے ۔ اس کے سامنے کھڑے ہو کر یہ ہے رقم لے لو ۔ اور جب تمہیں توفیق ہو۔ آکر اسی کے سامنے واپس کر دینا۔ ہاں یہ میرا بڑا لڑکا بھی پاس  ہے ۔ یہ بھی تمھارے رقم لینے کے ل وقت موجود ہو گا۔ دوست کو معلوم نہ تھا کہ با ہر کون ہے ۔ ہمارا مکان امرت سر میں خالصہ کالج روڈ پر سڑک کے کنارے واقع تھا ۔ مکان کے ساتھ ہی مسجد تھی ۔ بڑے آبا۔ میرے آیا اور بڑے ابا کا دوست تینون مکان سے باہر نکلے اور بڑے  سب کو مسجد میں لے گئے ۔ وہاں بڑے آبا نے دوست سے کہا ۔ کہ لو بھئی یہ خدا کا گھر ہے ۔ اور مجھے اتنی ہی گواہی کی ضرورت ہے کہ تم خدا کے گھر میں خدا کے روبرو مجھ سے پانسو روپے لے رہے ہو۔ جب تمھارے پاس ہوں دے دینا اور اگر آج کے بعد میں مرجاؤں ۔ تو میرے اس بڑے لڑکے کو یہ رقم لوٹا دینا ۔ لیکن میری زندگی کے بعد بھی میرے لڑکے کو تم سے مطالبہ کرنے کا حق نہیں ۔ ہاں اگر اپنی مرضی سے تم واپس کرو تو یہ بہتر حقدار ہے اور یہ کہہ کر پانسو روپے اس آدمی کو دے دئیے اور وہ لے کر چلا گیا ۔ اپنے مکان میں واپس آکر ابا جی نے بڑے آبا سے پوچھا کہ یہ آپ کے دوست کون ہیں اور کہاں رہتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا ۔ کہ یہ میرے ایک دلی دوست ہیں ۔ اور امرت سر میں ہی رہتے ہیں ۔ صابن کا کاروبار کرتے ہیں اس سے زیادہ بتانے کی ضرورت نہیں ۔ اس واقعے کو دو سال گزر گئے بڑے ابا رحلت فرما گئے ۔ اس واقعہ کی یاد اباجی کے دل سے یا گھر میں اور جن کو معلوم تھا سب کے دل سے محو ہو گئی ۔ ایک سال اور گزر گیا اور امرتسر میں قیامت کے آثار پیدا ہو گئے قتل و غارت ۔ لوٹ مار ۔ آتشزد کی ۔ دوڑ بھاگ .مسلمان جو ہندو محلوں میں آباد تھے مکان خالی کر کے امرت سر کے مسلمان محلوں میں چلے گئے ۔ اور اسی سلسلے میں ہم اپنے امر تسر کے مکان سے جانیں بچا کر پہلے اپنے آبائی گاؤں اور بعد میں لاہور بغیر کسی نقدی اور سامان کے آگئے ۔ لاہور میں اگرچہ ہمارے رشتہ دار احباب موجود تھے ۔ لیکن اس مشکل وقت میں خوراک اور نقدی کی صورت میں امداد دینا مشکل تھا ۔ ابا جی بہت پریشان تھے کہ کس کے سامنے دستِ

سوال دراز کریں ۔ چچا صاحب جو ملٹری آرڈینینس ڈپو میں لفٹننٹ تھے اور ہمارا خیال تھا کہ لاہور پہنچتے ہی ہماری تمام مشکلیں حل ہو جائیں گی ۔ وہ بونڈری فورس میں منتقل ہو کر کسی اور مقام پر تبدیل ہو چکے تھے اور امرت سر اور آبائی گاؤں میں ہماری تلاش کر چکے تھے اور کسی جگہ ہمارا پتہ نہ پا کر بہت پریشان تھے ۔ ادھر ہماری حالت ناگفتہ بہ تھی۔

ایک دن جب کہ ہمارے گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا ۔ اباجی کسی دیرینہ دوست کے پاس کچھ کام حاصل کرنے کو گئے ۔ ابا جی کی غیر حاضری میں ایک آدمی نے ہمارا دروازہ کھٹکھٹایا اور آیا جی کا نام لے کر آواز دی ۔ اماں جی نے مجھے باہر بھیجا کہ پتہ کروں کون صاحب ہیں ۔ دروازہ میں پاکر نو دارد نے مجھے پوچھا تمھارے ابا کہاں ہیں ؟ میں نے کہا ابا جی بغیر پتہ بتائے کہیں باہر گئے ہوئے ہیں شام تک آجائیں گے۔ اس نے مجھ سے خیریت پوچھی ۔ کہ کنبے کے سب افراد زندہ اور سلامت آگئے ہو ؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا ۔ اس نے کہا کہ جب تمھارے آبا آئیں ان کو کہنا کہ کل دس بجے سے پہلے گھر سے باہر نہ جائیں ۔ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں ۔

رات کو  آبا آئے تو بہت پریشان تھے ۔ میں نے اسے اس آدمی کے آنے اور کل دس بجے تک پھر آنے کا پیغام سنایا ۔ ابا جی سرسری طور پرسن کر پریشان حالت میں خاموش رہے ۔ اگلے دن صبح ہی وہ آدمی آیا ۔ ابا جی نے اُن کو نہ پہچانا ۔ مکان کی بیٹھک میں جب ان کو بٹھایا تو اس نے معمولی خیریت پوچھنے کے بعد کہا کہ میں تمھاری تلاش میں امرت سر سے تمھارے گاؤں اور گاؤں سے یہاں آیا ہوں ۔ تمھاری ایک امانت میرے پاس ہے جو آج سے تین سال پیشتر تمھارے سامنے بڑے ملک صاحب سے بطور قرض لی تھی ۔ اگرچہ ملک صاحب آج زندہ نہیں لیکن خدا گواہ ہے کہ میں ملک صاحب کی امانت حسب وعدہ آج واپس کر رہا ہوں ۔ یہ کہہ کر اس نے پانچ نوٹ سوسو روپے کے اباجی کے ہاتھ میں دے دئے اور سلام علیکم کر کے چلا گیا ۔ اور ابا جی امداد غیبی کا شکریہ ادا کر کے آنکھوں میں آنسو بھر لائے ۔


(حمید الدین کمال 1951)

No comments:

Post a Comment

Duain

 اے میرے رب مجھے دین کی صحیح سمجھ عطاء فرما۔۔۔ سیدھا راستہ دیکھا وہ راستہ جو تیری رضا کے حصول کا ہو  ۔۔۔۔ اپنی رضا میں زندگی اور موت عطاء فر...