نجمہ
اتنی دیر سے سکول آتے ہوئے شرم تو نہ آئی ، ذرا تھوڑی دیر اور آرام کر لیا ہوتا ، مت آؤ میری جماعت میں استانی جی نے غصہ سے لال پیلی ہوتے ہوئے کہا ۔
نجمہ سر جھکائے کھڑی تھی ۔ جماعت کی لڑکیاں اسے دیکھ دیکھ کر چپکے چپکے کتابوں میں منہ چھپائے ہنس رہی تھیں استانی جی معاف کردیجئے ، میرا کوئی قصور نہیں نجمہ نے سر جھکائے ہوئے استانی جی سے معافی مانگی ۔ اور وہ تو جیسے موقعہ تاک رہی تھیں کچھ اور کہنے کے لئے ۔ غصہ سے بھرتے ہوئے اُسے جھڑ کا "پھر میرا قصور ہو گا تمھارے دیر سے سکول آنے میں ، کھڑی بک بک کئے جاتی ہے ۔ نکلتی ہے یہاں سے یا نہیں“ اور اُستانی نے نجمہ کو چٹیا پکڑ کر کمرے سے نکال دیا ۔
نجمہ کی آنکھیں چھلک اٹھیں ۔ وہ آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتے ہوئے وہاں سے چل دی ۔ شمیم ابھی تک اُس کا منہ چڑا رہی تھی ۔ اُس نے کوئی پرواہ نہ کی اسے اپنا گھر یاد آ رہا تھا ۔ ٹوٹی ہوئی جھونپڑی میں ٹوٹی پھوٹی چیزیں ایک چارپائی پر اس کی امی بخار میں مبتلا لیٹی تھی ۔ نجمہ اپنے خیالات میں غلطان و پیچاں چلی جا رہی تھی کہ ٹھوکر لگی ۔
انوه ! یہ تو دیوار ہے ۔ گھر چلی جاؤں مگر امی نے تو کہا تھا کہ بیٹی میری فکر دو نہ کر ۔ سکول کا وقت ہو گیا ہے۔ جابیٹی سکول چلی جا ، دنیا میں بغیر پڑھے لکھے گزارہ نہیں ہوتا ۔ تجھے علم حاصل کرنا چاہئے“۔ وہ کھڑی سوچنے لگی گھر گئی تو امی کو کتنا صدمہ ہو گا ۔ نہیں نہیں میں گھر نہیں جاؤں گی“ اور نجمہ دیوار کے ساتھ رکھے ہوئے بنچ پر بیٹھ گئی آنسو اب بھی ٹپک رہے تھے نجمہ نے سکول پر ایک نظر ڈالی ۔ سکول کی عمارت چپ چاپ سر اُٹھائے کھڑی تھی۔ جیسے کہہ رہی ہو آؤ تمھیں علم کی دولت ہے مالا مال کر دوں ۔ آؤ ، تمہیں تہذیب و شائستگی کا زیور پہناؤں مگر نجمہ نے خیالات میں غوطہ کھایا ۔ یہ عمارت سب کو بلاتی رہتی ہے ۔ یہ ایک داعی ہے ۔ اور دعوت کا انتظام کرنے والے انتظام اچھا نہیں کرتے اور نام بدنام کرتے ہیں ۔ اس داعی کا ۔ اُسے اپنی جماعت یاد آگئی اُستانی اور لڑکیاں۔ استانی باقی لڑکیاں کو کیوں نہیں جھڑکتی ؟ انہیں کیوں نہیں کمرے سے نکالتی ابھی پرسوں ہی تو شمیم اتنی دیر سے سکول آئی تھی اسے کیوں نہیں جھڑ کا ؟ اسے کیوں نہ کمرے سے باہر نکالا ؟ مگر اس نے تو اُستانی کو وہ خوب صورت سا دو پٹہ بھی تو دیا تھا ۔
استانی نے جب اُس سے پوچھا کہ شمیم آج تمہیں دیر کیوں ہو گئی تو کیسے منہ چڑا کر کہہ رہی تھی کہ اُستانی جی آپ کا دوپٹہ خرید نے میں دیر ہو گئی میں بازار چلی گئی تھی اور نجمہ کیوں دیر سے آئی تھی ۔ گھر میں صرف تین آدمی ہی تو ہیں۔ سعید - نجمہ اور اس کی امی ۔ سعید تو منہ اندھیرے ہی رکشا لے کر چلا جاتا ہے ۔ اور نجمہ سکول آ جاتی ہے اور امی گھر میں اکیلی ۔ دو چار دن ہوئے جب سے امی بیمار ہوئی ہے نجمہ کو بہت ہی صبح اُٹھنا پڑتا ہے ، کہیں سعید بغیر ناشتہ کئے نہ چلا جاے ۔ وہ ناشتہ تیار کرتی ہے ۔ نماز پڑھتی ہے ۔ خود تیار ہوتی ہے ۔ امی کی تیمار داری کرتی ہے ۔ پھر دو پہر کا کھانا تیار کرتی ہے ۔ آج امی کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی۔ سر میں شدت کا درد ہو رہا تھا ۔ نجمہ سر دباتی رہی امی بے ہوش ہو گئی تھی ۔ پھر نجمہ سکول کیسے آجاتی ؟ ۔ ہوش آنے پر امی نے اس سے کہا تھا " بیٹی میری فکر نہ کر ۔ سکول کا وقت ہو گیا ہے ۔ جا بیٹی سکول چلی جا۔ دنیا میں بغیر پڑھے لکھے گزارا نہیں ہوتا ۔ مجھے علم حاصل کرنا چاہئے“
اور وہ امی کا دل رکھنے کے لئے چار و نا چار سکول چلی آئی ۔ اور کار سکول میں اُستانی نے ڈانٹا ۔ ٹن ٹن ٹن - سکول کی گھنٹی بجھی نجمہ چونک اٹھی ۔ یہ تفریح کا وقت تھا ۔ لڑکیاں کمروں سے نکل رہی تھیں ۔ بھڑ کیلئے چمکدار کپڑے - لہراتے ہوئے دوپٹے ، مسکراتے ہوئے چہرے ، قہقہوں کی آوازیں ۔ کاش نجمہ بھی مسکرا سکتی ! نجمہ کے آنسو خشک ہو چکے تھے ۔ وہ ان چمک دار کپڑوں اور لہراتے ہوئے دوپٹوں کو دیکھ رہی تھی کہ اُس کی ہم جماعت لڑکیوں نے اُس کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا ۔ شمیم اُس کا منہ چڑاتی ہوئی پاس سے نکل گئی نجمہ سوچنے لگی یہ دنیا بھی کیسی ہے ۔ انسان انسان کے درپے ہو رہا ہے ۔ امیر غریبوں کو کھائے جا رہے ہیں ۔ انسان انسان سے جانور کا کام لیتا ہے ۔ اُسے اپنا بھائی یاد کی آگیا۔ سعید رکشا چلاتا ہے ۔ اُسے اور کوئی کام نہ ملا تھا ۔ جو کام بھی شروع کرتا ناکامی ہوتی۔ امی کا زیور تو بک چکا تھا۔ نجمہ کی بالیاں باقی تھیں ۔ کسی نے اُسے نصیحت کی کہ میاں رکشا چلانا شروع کر دو ۔ سعید کتنا پریشان ہوا تھا ۔ رکشا چلائے کیسے ؟۔ اُس کے پاس تو کوئی روپیہ نہیں وہ رکشا کیسے خریدے ۔ پھر رکشا چلانا بھی کتنا انسانیت سے گرا ہوا کام ہے ۔ انسان کو جانور بننا پڑتا ہے ۔ جیسے گھوڑا گاڑی کو کھینچتا ہے ۔ جیسے گدھا گاڑی کھینچتا ہے ۔ کیا اُسے روزی کمانے کے لئے جانور بننا پڑے گا گھوڑا بننا پڑے گا ؟۔ اور پھر مجبورا اسے گھوڑا بنناہی پڑا جب نجمہ نے اُسے اپنی بالیاں دے دیں ! اور اُس دن سے وہ رکشا چلانے لگا۔ نجمہ یوں ہی سوچتی چلی جارہی تھی ۔ اسے گرد و پیش کی کوئی خبر نہ تھی۔ اُسے کچھ پتہ نہ چلا کہ کتنا وقت گزر چکا ہے ہوا زور سے چلنے لگی مٹی اڑ نے لگی ٹن ٹن ٹن ٹن زور سے گھنٹی بجی اور چھٹی ہو گئی ۔ لڑکیاں کمروں سے نکلنے لگیں ۔ بستے سنبھالے ۔ دوپٹے ٹھیک کرتی ہوتی ۔ نجمہ بھی سنبھلی کتا بیں صاف کیں اور دل میں سوچتی ہوئی گھر کے رستے پہ ہوئی، یہ کہ دنیا کیوں بے شرم
ہو رہی ہے ۔ شرم وحیا اس جہان سے بھاگی چلی جا رہی ہے ۔ کسی کو بھی شرم نہیں آتی ۔ شمیم کو منہ چڑاتے شرم نہیں آتی ۔ اُستانی کو گالیاں دیتے شرم نہیں آتی ۔ مجھے گالیاں سنتے شرم نہیں آتی ۔ سعید کو جانور بنتے ہوئے شرم نہیں۔ ہاے رے کسی کو بھی شرم نہ آئی ۔
(سارہ سلطانہ ساره )
No comments:
Post a Comment