سلسلہ نصیحت و اصلاح

سلسلہ نصیحت و اصلاح

مرتب:-✍️

مفتی محمد حسن

اللہ تعالیٰ سے استقامت اور مستقل مزاجی کی دعا مانگیں. کیونکہ استقامت ہزار کرامتوں سے بہتر ہے. 

استقامت کا معنی:-

ایمان، اَعمالِ صالِحہ، گناہوں سے اِجتِناب پر ڈٹے رہنا اِستِقامت کہلاتا ہے۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اِستِقامت یہ ہے کہ ایمان ضائع نہ ہو، نیک اَعمال، مثلاً: نماز، روزہ، فرض حج، فرض زکوٰۃ ترک نہ ہوں۔ تلاوت، ذِکْر، دُرود، تسبیحات و اذکار، صَدَقات و خیرات، دوسروں کی خیر خواہی وغیرہ وغیرہ پر ہمیشگی ہو، تمام گناہوں سے بچنے کی عادت پختہ رہے۔

استِقامت کی کئ قسمیں ہیں. مثلاً ایمان پر اِستِقامت، فرض عبادات پر اِستِقامت، مستحبات یعنی عام نیکیوں پر اِستِقامت. 

استقامت ہزار کرامتوں سے بہتر ہے یہی وجہ ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے پناہ اجر و ثواب کا وعدہ فرمایا گیا ہے.

چنانچہ سورہ فُصلٰت آیت 30 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے. 

إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ۔

ترجمہ:-

جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا ربّ اللہ ہے پھر وہ اسی پر ثابت قدم رہے(یعنی اللہ تعالیٰ کو راضی کرتے ہیں اور گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو ناراض نہیں کرتے، تو بوقت وفات) اُن کے پاس فرشتے (یہ کہتے ہوئے) آتے ہیں کہ نہ کوئی خوف دل میں لاؤ اور نہ کسی بات کا غم کرو(بلکہ) اس جنت کی بشارت سن لو جس کا تم سے وعده کیا گیا ہے۔

اصل یہی ہے کہ جب بھی کوئی نیک عمل شروع کیا جایے تو اس پر ہمیشگی اختیار کی جائے. یہ درست نہیں کہ چند روز تک وہ نیک عمل کرتے رہیں اور پھر بعد میں چھوڑ دیں. اسوجہ سے ایک حدیث میں ارشاد ہے. 

سیدنا قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انھوں نے کہا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ کے ہاں محبوب ترین کا م وہ ہے جس پر ہمیشہ عمل کیا جائے اگرچہ وہ قلیل ہو۔

(قاسم بن محمد نے) کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب کوئی عمل کرتیں تو اس پر ہمیشگی اختیار کرتی. 

(صحیح مسلم 1830)
استقامت حاصل کرنے کے لیے چند اعمال

🔹 کسی بھی نیکی کے کام کے آغاز پر اللہ تعالیٰ سے استقامت اختیار کرنے اور مستقل مزاج بننے کی دعا مانگنی چاہیے کہ ہمیشہ کے لئیے ایسی نیکی کے کام کی توفیق ملتی رہے. 

 🔹اس نیکی یا خیر کے کام پر ریاکاری اور فخر و تکبر سے اجتناب کرنا چاہیے. 

🔹دینی ماحول یا دینی مجالس میں شرکت کرنی چاہیے. 

🔹سستی اور غفلت آنے پر علماء کرام کے اصلاحی بیانات سننے چاہیے اگرچہ دس پندرہ منٹ کے لئے ہو تاکہ دینی جذبہ برقرار رہے. 

🔹دیندار دوست زیادہ سے زیادہ بنانے چاہیے جو زیادہ تر دین کی باتیں کرتے ہوں دنیا کے ساتھ شدید محبت نہ رکھتے ہوں.

🔹نگاہوں کی حفاظت کرنی چاہیے. بدنگاہی جیسے گناہ کی نحوست ہی یہی ہے کہ وہ نیکی کے کام میں سستی لاتی ہے. موبائل کا غلط استعمال ترک کرنا چاہیے کیونکہ یہ اعمال سے محرومی کا باعث ہے. 

🔹عزم و ہمت سے کام لینا چاہیے، شیطان اگر نیک اعمال میں سستی کا وسوسہ دل میں لائے تو کبھی بھی حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے بلکہ چست رہنا چاہیے اور نیکی کے کام میں تاخیر نہیں کرنا چاہیے. 

🔹 ہر وقت اللہ تعالیٰ سے استقامت کی دعا مانگنی چاہیے کہ ہم ایمان اور نیک اعمال پر ثابت قدم رہیں کبھی بھی نیک اعمال میں سستی نہ ہونے پائے. 

🌷مجموعہ رسائل ابن رجب حنبلی میں علامہ ابن رجب حنبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حق کے راستے پر استقامت و ثابت قدمی انسان کے بس میں نہیں؛ اِس لیے انسان کو ہر وقت اپنے ربّ سے استقامت و ثابت قدمی کی دعاء کرنی چاہیے،

کتنے ہی ایسے لوگ ہیں، جو نیک عمل کرنے والے ہیں، جب اُن کے اور جنت کے درمیان ایک گز (یعنی تھوڑا فاصلہ) رہ جاتا ہے، اور انسان نجات کے قریب ہوتا ہے؛ تو گناہ اور خواہشِ نفس کی لہر کا شکار ہو کر اُس میں غرق ہو جاتا ہے. اور جنت جیسے اعلی مقام سے محروم ہو جاتا ہے. 

🌻 ہر نماز کے بعد اور عام حالات میں بھی، ایمان اور نیک اعمال پر استقامت کے لیے مندرجہ ذیل دعاؤں کا اہتمام ضرور کریں. 

 ✍️ رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ ھَدَیۡتَنَا وَ ھَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحْمَةً ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَھَّابُ.

(سورة اٰل عمرٰن:08)

 ✍️ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰى دِینِکَ. 

(📚سنن ترمذی 3522) 

✍️ رَبّ أَعِنِّيْ عَلَى ذِكْرِكَ، وَشُكْرِكَ، وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ. 

(📚سنن نسائی 1304)

اللہ تعالی ہم سب کو ایمان اور نیک اعمال پر استقامت نصیب فرمائے۔آمین

No comments:

Post a Comment

Duain

 اے میرے رب مجھے دین کی صحیح سمجھ عطاء فرما۔۔۔ سیدھا راستہ دیکھا وہ راستہ جو تیری رضا کے حصول کا ہو  ۔۔۔۔ اپنی رضا میں زندگی اور موت عطاء فر...