لمعات
دنیا میں کوئی قوم کسی معاملہ میں کامیابی نہیں حاصل کر سکتی جب تک اس قوم کے ہر فرد کے دل میں اپنے مقصد کی پاکیزگی، مسلک کی حقانیت اور نصب العین کی صداقت، ایمان کے درجہ تک نہ پہنچ چکی ہو کہ :
یقین افراد کا سر ما یہ تعمیر ملت ہے
یه وہ قوت ہے جو صورتگر تقدیر ملت ہے
جب افراد کے یقین و ثبات کی ایسی کڑی شرط ضروری ہے تو اس قوم کے ارباب بست کشاد کے ایقان وایمان
کو کس قدر کم اور بلند ہونا چاہیے۔ بالکل واضح ہے۔ یقین محکم کے اندروہ لرز ہ انگیز تر قوت پنہاں ہے کہ جس سے ارادوں میں بلندی ،نگاہ میں فراخی ، قلب میں وسعت ۔ خون میں ایک نئی حرارت ، اور بازوؤں میں وہ فولادی روح پیدا ہو جاتی ہے کہ جس کے سامنے بڑی سے بڑی مشکل آسان اور سخت سے سخت مصیبت بینچ
نظر آتی ہے.
جب اس انگارہ خاکی میں ہوتا ہےیقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پر روح الامیں پیدا
جب انسان کا دل ایمان کی ملکوتی قوتوں سے لبریز ہو جائے تو اس میں خوف و حزن کا کہیں نشان باقی نہیں رہ
سکتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں بارگاہ ایزدی سے لا خوف عليهم ولا هم يحزنون کی اعلیٰ ترین سند عطا ہوتی ہے ۔ اور
یہی ہیں جو انتم الاعلون کے تخت جلال پر جلوہ ریز ہوتے ہیں ۔
مومنے بالائے ہر بالا ترے
غیرت او برنتا بد ہمسرے
جرات و مردانگی انکا مسلک اور حق گوئی و بیا کی انکا مشرب ہوتا ہے جو دل میں ہوتا ہے، ہی زبان پر آتا ہے ۔ جو
کہتے ہیں وہی کرتے ہیں، جسکے دشمن ہیں کھلے کھلے دشمن ہیں جس کے دوست ہیں علانیہ دوست ہیں، نہ دشمنی کسی
ذاتی جذبہ کے ماتحت ہے، نہ دوستی کسی اپنی غرض کے لیے۔ دشمنی اور دوستی دونوں اس بلند نصب العین
کے لیئے ہیں جس کی صداقت انکا ایمان اور جس کا حصول اُن کی زندگی کا منتہی ہوتا ہے پہ بڑے سے بڑا لالچ انکے
طرۂ استغناء میں خمیدگی ۔ اور نہ سخت سے سخت خطرہ انکے پائے استقلال میں لغزش پیدا کر سکتا ہے، یہ ہیں وہ
زعمائے ملت جنکے ہاتھوں قوم کی تقدیر بنتی ہے ۔
اس کے برعکس ایک دوسری قسم کے لوگ ہوتے ہیں جنھیں نہ اپنے نصب العین کی صداقت پر یقین اور نہ اسکے حصول کے لیئے دل میں کوئی تڑپ ہوتی ہے، چند ذاتی اعراض اُنکے پیش نظر ہوتے ہیں۔ جن کی خاطر انہیں رنگ رنگ کے پردے، اورقسم کے نقاب اوڑنے پڑتے ہیں وہ کسی خاص تحریک یا مقام کے ساتھ بظاہر وابستہ داماں ہوتے ہیں اسلئے نہیں کہ اس تحریک یا مقصد سے انہیں کوئی عشق ہوتا ہے، بلکہ اسلئے کہ تقاضائے مصلحت ایسا کرنے پر انہیں مجبور کرتا ہے، ان میں نہ اتنی جرات ہوتی ہے کہ علانیہ اس سے علیحدگی اختیار کر لیں اور نہ ایسا المیان کہ دل سے اسکے ساتھ ہو جائیں ، ہر ایسے موقعہ پر جہاں ایمان اور عدم یقین کی کھلی کھلی آزمایش ہوتی ہے، اُن کی عقل حیلہ جو ایسے ایسے بہانے تراش دیتی ہے کہ جس سے وہ نتھر کر سامنے نہ آسکیں ۔
یہ ہیں وہ لوگ جو غاز تگر تقدیر ملت ہوتے ہیں !
![]()
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق ! نے ابلہ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فر زند
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند !
مشکل ہے کہ اک بندہ حق بین وحق اندیش خاشاک کے تودے کو کہے کوہ دما دند!
![]()
No comments:
Post a Comment