والدین کے نام
بچوں کے لیے مطالعہ کیوں ضروری ہے ؟
آپ کا بچہ آپ کے لیے دنیا کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے اور اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔ یہ بچے آپ کی گلشن زندگی کے مہکتے پھول ہیں ۔ مستقبل کی روشن اُمید ہیں۔ ہر والدین کی طرح آپ کی بھی یہ خواہش ہے کہ آپ کی اولاد بھی آپ کی فرمانبردار ردار، نیک صالح، پرہیز گار اور دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہو۔
محترم والدین! یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کا ذہن کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے اس پر آپ جو تحریر لکھیں گے وہ اس گے وہ اس کی شخصیت کا نصب العین قرار پائے گا۔
نبی کریم ملی اسلام نے فرمایا:
ہر بچہ فطرت اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے پھر اس بچے کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یامجوسی بناتے ہیں“ آپ کا بچہ آپ کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے اس کی صحت اور اس کی نصابی تعلیم ہی اہم نہیں بلکہ سب سے زیادہ اہم اس کی تربیت اور شخصیت سازی ہے اگر آپ اپنے بچے کی تربیت اور شخصیت سازی نہ کر سکے تو یاد رکھیے ! آپ اپنے بیٹے کو انجینیر تو بنادیں گے ، آپ کا بٹا یا بیٹی ڈاکٹر بھی بن جائیں گے پروفیسر بھی کہلائیں گے لیکن ان کی شخصیت کا حال یہ ہو گا کہ مریض بستر پر تڑپ رہا ہو گا ، طلبہ حصولِ علم کے لیے ان کے گرد جمع ہوں گے ، ملکی معیشت ان کی صلاحیتوں پر انحصار کرے گی مگر یہ ہڑتال پر ہوں گے.
مریض تڑپ تڑپ کر جان دے رہا ہو گا مگر ڈاکٹر ہڑتال کر رہا ہو گا طلبہ حصول علم کے لیے بے چین و بے تاب ہوں گے مگر استاد ہڑتال کر رہا ہو گا.
کیا آپ اپنے بیٹے کو ایسا ہی انجینیر ، ڈاکٹر اور استاد بنانا چاہتے ہیں ؟
اگر نہیں تو پھر آپ کو اپنے بچے کی تربیت اور شخصیت کی تعمیر پر بھر پور توجہ دینا ہو گی.
لیکن کیسے ؟
آپ کے بچے کی اہم ترین ضرورت
- کتب بینی آپ کے بچے کی اہم ضرورت اسے نظر انداز مت کیجیے.
- کتاب کا مطالعہ فرد کی تربیت اور شخصیت کی تعمیر کا ایک بہترین طریقہ ہے.
ایک اچھی کتاب آپ کے بچے کی روح پر بہت گہرا اثر ڈالتی ہے اس کی روح اور نفس کو کمال عطا کرتی ہے اور اس کی شخصیت کے قد کاٹھ کو دوسرے بچوں سے نمایاں کرتی ہے۔
ستاروں پر کمند ڈالنے کا حوصلہ ہو یا چیلنجز کا سامنا کرنے کی اصلاحیت ، حصولِ مقصد میں کامیابی کا ہنر ہو یا منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت ، خود اعتمادی ۔۔۔ دانائی ۔۔۔ نظم و ضبط ۔۔۔ استدلال میں مہارت ۔۔۔ تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری ہو یا اقوام عالم کی تہذیبوں اور ثقافتوں سے آگا ہی۔
کتب بینی آپ کے بچے کی شخصیت کو ایک نیا نکھار دیتی ہے۔
آج کا دور اور آپ کا بچہ :
آج کے موجود زمانے میں جب مشینی زندگی میں انسان کے پاس فرصت کے لمحات کم ہی میسر آتے ہیں، علمی و دینی محافل میں شرکت بھی مشکل ہو چکی ہے اور بے لگام میڈیا کے اخلاق باختہ پروگرام نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے ان حالات نے کتاب کے مطالعہ کی اہمیت کو اور بھی دو چند کر دیا ہے.
آج کے دور میں بچوں کے لئے اس قدر کچرا ہے کہ وہ اس سے سر ہی نہیں اٹھا پاتے۔موبائل سے ہٹتے ہیں تو ٹی وی دیکھنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ٹی۔ وی سے فارغ ہوتے ہیں توکمپیوٹر کھول لیتے ہیں۔ اور پھر گھنٹوں فیس بک، چیٹنگ اور دنیا جہاں کی اچھی بری باتیں سرچ کی جاتی ہیں۔ یہ تمام خرافات والدین کے لئے لمحہ فکر یہ ہیں۔
آپ کے بچے پر کتب بینی کے اثرات:
اچھی کتاب آپ کے بچہ پر گہرا اور عمیق اثر چھوڑتی ہے کتب بینی کی وجہ سے آپ کے بچہ میں تجزیہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے آپ کے بچے کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ آپ کے بچے کی شخصیت نکھرتی چلی جاتی ہے۔ آپ کے بچے کی ذہنی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے فیصلہ کرنے کی صلاحیت ---- منصوبہ بندی میں مہارت ۔۔۔ یاداشت میں اضافہ ۔۔۔ سوچ میں پختگی ۔۔۔ خود اعتمادی ۔۔۔ دانائی ۔۔۔ برداشت ۔۔۔ اچھی رائے قبول کرنے کی صلاحیت ---- اخلاق و کردار - استدلال میں مہارت ، کتب بینی سے یہ تمام اوصاف و صلاحیتیں آپ کے بچے کے اندر پیدا ہوتی چلی جاتیں ہیں۔
صالح لٹریچر کا ہی انتخاب کیوں؟
آج کے جدید دور میں لٹریچر کی دنیا میں بھی بہت کچھ ہے چوری، ڈکیتی اور جاسوسی ناولز کی بھر مار ہے، بچے جرائم کی کتابیں جن میں پولیس، قتل اور چوری ڈکیتی کی باتیں ہوں بڑے شوق سے پڑھتے ہیں لیکن اس طرح کی کتابیں نہ فقط یہ کہ ان کے لیے سود مند نہیں ہیں بلکہ انہیں قتل، جرم اور چوری وغیرہ کے طریقے بھی سکھاتی ہیں جس میں ان کی سلامتی اور روحانی اور نفسیاتی سکون تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔
یہ کتابیں بچے کی روح پر برا اثر ڈالتی ہیں اور ایک بار جب اس کے اثرات بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہو جائیں تو بچہ کی دوبارہ تربیت کرنا اور ان بے مقصد اور مضر اثرات کو ختم کرنا نہایت مشکل کام ہے۔
ہمیں آپ ہی سے کچھ کہنا ہے :
ہر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اُن کا بچہ بڑا ہو کر ایک کامیاب انسان بنے ۔ معاشرے کا مفید فرد ہو اور سب سے بڑھ کر ان کا نیک اور فرمانبردار بیٹا یا بیٹی ہو آج کے اس دور میں جب فکر معاش کے باعث ہمارے پاس اپنی اولاد کے لیے وقت ہی نہ ہو اور دیگر بیرونی عوامل بھی بری طرح سے آپ کی اولاد پر اثر انداز ہو رہے ہوں ، میڈیا، سوشل میڈیا، انڈین فلمیں ، ڈرامے انٹر نیٹ کی ایک بہت وسیع دنیا۔، ان تمام حالات میں ایک صالح لٹریچر آپ کےبچے کی تربیت کے لیے انتہائی نا گزیر ہے اگر آپ نے اس اہم معاملے پر توجہ نہیں دی تو یاد رکھیے ! کہیں بہت دیر نہ ہو جائے اور مغربی معاشرے کی طرح ہمارے معاشرے میں بھی اولڈ ہاؤسز کا قیام عام نہ ہو جائے اور آپ کی زندگی کے آخری ایام پوتے پوتیوں سے لطف اندوز ہونے کے بجائے اولڈ ہاؤسز کی تنہائیوں میں کٹ رہے ہوں۔
آئیے ! ہمارے ساتھ مل کر اپنے بچہ کی تربیت میں حصہ لیجیے کہیں طاغوتی قوتیں آپ کے بچے کے اخلاق و کردار اور شخصیت کو تباہ و بر باد نہ کردیں۔
آئیے ! اپنی ذمہ داری کو محسوس کیجیے اور صالح معاشرے کے قیام میں اپنی ذمہ داری ادا کیجیے.
No comments:
Post a Comment